Monday, June 27, 2022

بھارتی عدالت نے حریت رہنما یاسین ملک کو جھوٹے کیس میں مجرم قرار دے دیا

بھارتی عدالت نے حریت رہنما یاسین ملک کو جھوٹے کیس میں مجرم قرار دے دیا
May 19, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - بھارتی عدالت کا ایک اور متعصبانہ فیصلہ سامنے آ گیا۔ بھارتی عدالت نے حریت رہنما یاسین ملک کو جھوٹے کیس میں مجرم قرار دے دیا۔

نئی دلیّ کی تہاڑ جیل میں کئی برسوں سے قید کشمیری حریت رہنما محمد یاسین ملک کو انڈیا کی ایک خصوصی عدالت نے بغاوت، وطن دُشمنی اور دہشت گردی کا مجرم قرار دیا ہے۔عدالت 25 مئی کو ان کی سزا کا اعلان کرے گی لیکن اُس سے قبل استغاثہ سے کہا گیا ہے کہ وہ یاسین ملک کی جائیداد اور مالی اثاثوں کا تخمینہ لگائے تاکہ سزا کے ساتھ ساتھ جُرمانے کی رقم بھی طے کی جائے۔

عدالت نے یاسین ملک سے اُن کی جائیداد اور اثاثوں سے متعلق بیانِ حلفی بھی طلب کیا ہے۔ یاسین ملک پر یہ الزامات بھارت کے نئے دہشت گردی مخالف قانون 'اَن لافُل ایکٹوِٹیز ایکٹ' یعنی یوے اے پی اے اور انڈین پینل کوڈ کے تحت عائد کیے گئے ہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جن الزامات میں فرد جُرم عائد کی گئی ہے اُن میں زیادہ سے زیادہ یاسین ملک کو عُمر قید ہو سکتی ہے۔10مئی کی سماعت کے دوران اُنہیں 2017 میں دہشت گرد کاروائیوں، دہشت گردی کے لیے سرمایہ اکھٹا کرنے، دہشت گردانہ حملوں کی سازش ، مجرمانہ سازش اور ملک دُشمن خیالات کے اظہار جیسے جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا جس کے بعد انہوں نے بھارتی خبررساں ایجنسی کے مطابق انھوں نے ’اقبال جُرم' کر لیا۔

ان کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا تھا کہ ’یاسین صاحب نے کسی دہشت کارروائی یا دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کا اعتراف نہیں کیا بلکہ انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ حق خود ارادیت کی جدوجہد چلا رہا ہوں جو بھگت سنگھ اور مہاتما گاندھی کی بھی تھی۔ یہ من گھڑت اور جھوٹا مقدمہ ہے۔58سالہ یاسین ملک پر 1989 میں اُس وقت کے انڈین وزیرداخلہ اور کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کی بیٹی روبیہ سید کے اغوا کرنے اور 1990 میں انڈین فضائیہ کے چار افسروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے کا بھی الزام ہے، تاہم تازہ فرد جرم میں ان الزامات کا ذکر نہیں ہے۔