Monday, June 27, 2022

آئی ایم ایف اقتصادی شرائط کی فہرست تیار، بڑی کمپنیوں کی 150 ارب کی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے پر کام شروع

آئی ایم ایف اقتصادی شرائط کی فہرست تیار، بڑی کمپنیوں کی 150 ارب کی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے پر کام شروع
February 10, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) معاشی مشکلات عوام کے لیے امتحان بننے لگیں، منی بجٹ کی منظوری کے بعد آئی ایم ایف نے مزید اقتصادی شرائط کی فہرست تیار کرلی۔ وزارت خزانہ نے بڑی کمپنیوں کو ملنے والی 150 ارب کی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے پر کام شروع کردیا۔

حکومت ابھی مشکل سے ہی منی بجٹ کے محاذ پر سرخرو ہو کر نکلی تھی کہ آئی ایم ایف کی طرف سے فرمائشوں کی نئی لسٹ تیار ہونے لگی۔ وزرات خزانہ نے اقتصادی شکنجہ مزید کسنے کا فیصلہ کرلیا، اگلے مرحلے میں مزید ایک سوپچاس ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کی جائے گی۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کارپوریٹ انکم ٹیکس کی مد میں ملنے والی چھوٹ ختم کی جائے گی۔ اب یہ ٹیکس چھوٹ حساس اشیا اورخدمات پرہی باقی رہے گی۔

بڑے سلیب کے بجلی اور گیس بلوں پر دستیاب سبسڈی ختم کرکے 1000 روپے ماہانہ بل تک محدود کرنے پر کام شروع کردیا گیا۔ یکم جولائی سے اس فارمولے کا اطلاق ہونے کا امکان ہے۔

پٹرولیم لیوی مزید 8 روپے فی لٹر بڑھانے کے لیے شیڈول بھی جون سے پہلے تیار کیا جائے گا۔ سرکاری شعبے میں قائم 17 بڑے اداروں کی نجکاری، خاتمے یا ڈس انویسٹمنٹ کا فارمولہ بھی تیار کیا جارہا ہے، یہ فارمولا بجٹ اہداف میں شامل کرکے معائنے کے لیے آئی ایم ایف کوپیش کیا جائے گا۔

فارمولے میں سرکاری اداروں کے اخراجات پر کم از کم 280 ارب روپے کا کٹ لگانا ہوگا جس سے حاصل ہونے والی رقم بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔

آئی ایم ایف کے مطالبے پر ایسے ٹھیکے داروں کے نام جون سے قبل شائع کرنا ہوں گے جنھیں کورونا ریلیف سرگرمی کے لیے 1200 ارب روپے کے ٹھیکے دیئے گئے، یہ فہرست اپریل تک تیارکرنا ہوگی۔

فہرست میں 5 کروڑ روپے یا اس سے زائد کے دیئے گئے ٹھیکوں کی تفصیل بتانا ہوگی۔ نئی شرائط کے مطابق ترقیاتی بجٹ کے لیے قرضوں کی پیشگی منظوری اسٹیٹ بنک سے لینا ہوگی۔ ترقیاتی رقم مختص کرنے سے قبل کام کی تفصیل، ٹائم لائن، انسپیکشن طریقہ کار اور بینک کا نام بتانا ہوگا۔