Friday, August 19, 2022

حکومتی اقدامات سے چھوٹا تاجر بالکل تباہ ہوجائے گا، شوکت ترین

حکومتی اقدامات سے چھوٹا تاجر بالکل تباہ ہوجائے گا، شوکت ترین
June 24, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کہتے ہیں حکومتی اقدامات سے چھوٹا تاجر بالکل تباہ ہوجائے گا۔

جمعہ کے مزمل اسلم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مزید 10 فیصد ٹیکس لگانے سے انڈسٹری بند ہونا شروع ہوجائے گی، مزید ٹیکس لگانے سے عام آدمی کو فرق کیسے نہیں پڑے گا؟

شوکت ترین بولے کہ مفتاح اسماعیل صاحب نے آج تیسرا بجٹ پیش کیا، اکنامک سروے پر انکے دستخط ہیں کم ازکم تمام سیکٹرز کی گروتھ پر جھوٹ تو نہ بولیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قرضے 77 فیصد برھائے ساتھ اکنامی بھی 72 فیصد بنائی۔ ہم نے پٹرول ریٹ 4 مہینے کے لئے فریز کیا تھا پورے سال کے لئے نہیں، ہم ہوتے تو روس جاتے اور سستا تیل لیتے، ہم عوام ہر ہرگز اتنا بوجھ نہ ڈالتے۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا آپکی نااہلی کی وجہ سے بینک کرپسی ہونے جارہی تھی، ہم نے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا، اس کے باوجود 1400ارب روپے زائد ٹیکس وصول کیا۔ مزید بولے کہ جب اپ اپنا ٹیکس لگائیں گے تو کام کیسے چلے گا؟

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ 43 ملین کی لسٹ چھوڑ کر آئے تھے، جنہیں ٹیکس نیٹ میں لانا تھا، ہم پی او ایس سسٹم لارہے تھے تاکہ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لائیں، انہوں نے سب کچھ ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا اور تاجروں کے لئے فکس ریٹ لگا دیا، فکس ٹیکس سے بڑے مگرمچھ تو بچ جائیں گے۔

ادھر مزمل اسلم نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے سے مزید مہنگائی بڑھے گی، ان سے حکومت سنبھل نہیں رہی، حالات خراب ہیں۔ ملک کے حالات سری لنکا سے بھی برے ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار بجٹ بغیر بحث کے پاس ہوگیا، چیزوں کے استعمال پر ٹیکس لگانا چاہئے، گروتھ 2 سے 3 فیصد کہہ رہے تھے لیکن ان سے یہ بھی نہیں ہوگا۔

مزمل اسلم کا مزید کہنا تھا کہ یہ سال مہنگائی کمر توڑ مہنگائی کا سال ہوگا، یہ لالی پاپ دے رہے ہیں کہ چین سے رقوم آرہی ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر مستقل کم ہورہے ہیں، انہوں نے جب ٹیکس لگایا تو کہا کہ اس سے غربت میں کمی ہوگی، حالانکہ پاکستان میں جب بھی بڑے لوگوں پر ٹیکس لگا وہ انہوں نے عوام پر منتقل کردیا۔