Wednesday, October 5, 2022

گدو پاور پلانٹ تعمیر میں تاخیر‘ قومی خزانے کو 19 ارب روپے نقصان کا سامنا

گدو پاور پلانٹ تعمیر میں تاخیر‘ قومی خزانے کو 19 ارب روپے نقصان کا سامنا
اسلام آباد (92نیوز) سات سو سینتالیس میگاواٹ گدو پاور پلانٹ کی تعمیر میں تاخیر سے قومی خزانے کو 19 ارب روپے کا نقصان ہو گیا۔ آڈیٹر جنرل نے وزارت پانی و بجلی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ تفصیلات کے مطابق 2009ءمیں اس وقت کی حکومت نے گدو میں 747میگاواٹ کمبائنڈ سائیکل تھرمل پاور منصوبہ لگانے کا پروگرام بنایا۔ پی سی ون کے مطابق ڈیزل اور گیس پر بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے منصوبے پر 59ارب روپے لاگت آنا تھی۔ یہ بھی دعویٰ کیا گیاکہ بجلی گھر اگست 2013ءمیں مکمل ہو جائے گا لیکن وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا۔ منصوبہ ایک سال تاخیر کا شکار ہوا۔ لاگت بڑھ کر 78ارب 76کروڑ ہو گئی یعنی خزانے کو لگا پورے 19ارب کا ٹیکہ۔ اب جب بجلی گھر تعمیر ہو گیا تو آڈیٹر جنرل نے اس پر اعتراضات لگا دیے اور وزارت پانی و بجلی سے جواب بھی طلب کر لیا۔ آڈیٹر جنرل نے موقف اپنایا ہے کہ منصوبہ سازوں نے پی سی ون بناتے ہوئے گیس چارجز کا خیال ہی نہیں رکھا۔ منصوبے کا پی سی ون چونکہ 2009ءمیں بنا تو اس وقت ڈالر کی قیمت 83 روپے تھی۔ جب 2012-15ءکے درمیان ٹھیکیدار کو رقم اداکی گئی تو ڈالر 105 تک پہنچ گیا۔ اسی لیے منصوبے کی لاگت میں 19ارب کا اضافہ ہوا۔ آڈیٹر جنرل نے وزارت پانی و بجلی کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے ذمہ داروں کےخلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔