Wednesday, December 7, 2022

ایف آئی اے نے 3.5ارب کے سکینڈل میں پانچ بنک افسران کو ملزم قرار دیدیا

ایف آئی اے نے 3.5ارب کے سکینڈل میں پانچ بنک افسران کو ملزم قرار دیدیا
اسلام آباد(92نیوز)نیشنل بینک آف پاکستان میں ایک اور بڑے اسکینڈل کا انکشاف ہواہےوفاقی تحقیقاتی ادارے نے ساڑھے تین ارب روپے مالیت کے اسکینڈل میں بینک کے سابق صدر علی رضااور سی ایف او قمر حسین سمیت پانچ افسران کو مرکزی ملزم قراردیاہے تفصیلات کےمطابق نیشنل بینک ایک بار پھر مالی اسکینڈل کی زد میں آگیا ہے۔  نئے اسکینڈل میں بھی بینک کے سابق صدر علی رضا کا نام سب سے اوپرہے۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق بینک کے اعلی افسران کی ملی بھگت سے بینک کو ساڑھے تین ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق بینک انتظامیہ نے پہلے ایک من پسند کمپنی کو ڈھائی ارب روپے کا قرضہ دیا جس کی عدم ادائیگی پر کمپنی کو نادہندہ قراردیا گیا مگر  بینک افسروں نے کارروائی کے بجائے  نادہندہ کمپنی کو مزید نواز دیا  اور اس کے ایک ارب روپے مالیت کے شیئرز خرید لیے جس سے بینک کو نقصان ہوا۔ ایف آئی اے نے تحقیقات کے بعد انکوائری نمبر 9 بٹا دو ہزار سولہ درج کرلی ۔۔ جس میں بینک کے سابق صدر علی رضا ، سابق سی ایف او قمر حسین سمیت پانچ افسروں اسکینڈل کا مرکزی کردار قراردیا گیا ۔ ایف آئی اے نے بینک کے سابق صدر علی رضا اور سی ایف او قمر حسین کو طلب بھی کیا گیا مگر دونوں پیش نہ ہوئے جبکہ بینک کے دیگر افسروں عامر ستار، دلبر حسن ، انیس الرحمان اور خادم حسین نے ایف آئی اے حکام کو اپنا بیان ریکارڈ کرادیا ہے ۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق کیس کی تحقیقات کے لئے بینک سے تمام ریکارڈ طلب کرلیا گیا ہے ۔