Friday, October 7, 2022

اگلے سال ملک پر بیرونی قرضے 82 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں : اقتصادی ماہرین

اگلے سال ملک پر بیرونی قرضے 82 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں : اقتصادی ماہرین
اسلام آباد (92نیوز) پاکستان میں بیرونی قرضوں کا سیلاب آ گیا۔ حکومت نے آئی ایم ایف کے تمام اندازوں کو پانی کی طرح بہا دیا۔ آئندہ 5سال میں بیرونی قرضے 10 ارب ڈالرز تک بڑھ سکتے ہیں۔ اقتصادی ماہرین نے اسے ملک کے لیے خطرناک قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق موجودہ دور حکومت میںبے پناہ بیرونی قرضے‘ آئی ایم ایف کی پیشگوئی بھی غلط نکلی۔ عالمی ادارہ کہتا تھا اگلے 3 سال میں بیرونی قرضوں میں 5 سے 7 ارب ڈالر تک کا اضافہ ہو سکتا ہے لیکن پاکستان نے آئی ایم ایف کے تمام اندازوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ 3سال میں بیرونی قرضہ لیا پورے 10ارب ڈالرز کا۔ قرضوں کاحجم 60 ارب ڈالرز سے بڑھ کر 72 ارب ڈالرز تک پہنچ گیا۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران پاکستان کے بیرونی قرضوں میں پانچ ارب ڈالرز اضافے کا امکان ہے۔ اگلے سال پاکستان کا بیرونی قرضہ 81 ارب 87 کروڑ ڈالر تک پہنچ جائے گا جبکہ 2020ءتک حجم 85 ارب 34 کروڑ ڈالرز تک ہو سکتا ہے۔ اگلے چار سال میں بیرونی قرضوں میں 10 ارب ڈالرز سے زائد کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان نے کم ہوتی ہوئی برآمدات کو نہ بڑھایا تو معیشت شدید خطرے میں پڑ سکتی ہے جس سے بیرونی ادائیگیاں متاثر ہونگی۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کو قرضوں کی واپسی کے لیے براہ راست سرمایہ کاری میں بھی خاطرخواہ اضافہ کرنا ہو گا۔