Wednesday, September 28, 2022

دورہ روس سے قبل امریکا نے اعلیٰ سطح کا رابطہ کیا، شاہ محمود قریشی

دورہ روس سے قبل امریکا نے اعلیٰ سطح کا رابطہ کیا، شاہ محمود قریشی
February 25, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا دورہ روس سے قبل امریکا کی طرف سے ایک اعلیٰ سطح کا رابطہ کیا گیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعطم روسی صدر کی دعوت پر ماسکو گئے تھے، ملاقات میں صدر پیوٹن کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہوئی، وزیر اعظم نے اعتماد سے پاکستان کا موقف پیش کیا۔ وزیراعظم نے روسی صدر سے اسلامو فوبیا، گیس پائپ لائن سمیت توانائی کے شعبوں سے متعلق گفتگو کی۔ وزیراعظم نے یوکرین معاملے پر اپنی تشویش کا ذکر کیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا ہمارے روس اور یوکرین کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات ہیں۔ روس اور یوکرین ایشو ایک دو دن میں پیدا نہیں ہوا اس کی لمبی تاریخ ہے۔ کہا کہ پاکستان روس اور یوکرین کے معاملے کو مذاکرات سے حل کرنے کا حامی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے یوکرین میں پاکستانی طالب علم کی ہلاکت کی خبر مسترد کردی۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان نے واضح کیا ہے کسی کیمپ کی سیاست کا حصہ نہیں بننا، ماسکو میں کچھ سیاسی لوگوں کی گھبراہٹ کے ٹویٹس دیکھے۔ کہا کہ ہندوستان کو وزیراعظم عمران خان کا دورہ روس ہضم نہیں ہورہا ہے۔ عمران خان ملک کا مقدمہ لڑنے گئے تھے، اپنے ذاتی مفاد کا نہیں۔ ہمارے روس کے ساتھ کثیر جہتی تعلقات ہیں خاص کر پچھلے کچھ برسوں میں روس کے ساتھ دوطرفہ دفاعی تعلقات بہت مضبوط ہوئے ہیں۔

شاہ محمود نے کہا کہ روس، یوکرین تنازع کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 100 ڈالر تک بڑھ گئیں، ایک تہائی گندم کی پیداوار یوکرین اور روس میں ہوتی ہے، روس اور یوکرین کشیدگی کے باعث گندم کی قیمت میں 7 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے۔

وزیر خارجہ بولے کہ روسی تاجروں نے اسلام آباد میں سرمایہ کاری کانفرنس میں دلچسپی ظاہر کی، ہم نے روس سے گیس کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی، گوادر میں ایل این جی ٹرمینل کے قیام کی پیشکش کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ آج کے وزیرِ اعظم کے سوئس، لندن اور کہیں بھی جائیدادیں اور اکاؤنٹس نہیں۔ ہماری صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا کہ اپوزیشن والے کس سے ملتے ہیں، شوق سے ملیں۔ بلاول اور شہباز شریف کو تفصیلی جواب لاڑکانہ میں ملے گا۔ ہم نے جانبدار پالیسی کی بہت بڑی قیمت چکائی ہے، اب وہ پالیسیز اور نہیں چل سکتیں۔ روس پر پابندیاں ابھی پائپ لائن میں ہیں، کچھ کا اعلان ہوا ہے کچھ کا نہیں مگر پاکستان اپنا مفاد دیکھے گا۔

شاہ محمود کا مزید کہنا تھا کہ فیٹف پر بھی روسی وزیرِ خارجہ سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے، ہمارے دور میں منی لانڈرنگ کے خلاف بہترین اقدامات لیے گئے ہیں۔ روس نے پاکستان کے اقدامات کی تعریف کی، روس نے کہا کہ فیٹف فورم کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ 30 اور 31 مارچ کو چین میں افغانستان کے معاملے پر 6 فریقی اجلاس ہوگا۔