Saturday, October 1, 2022

عدالت آئین اور قانون کی حکمرانی قائم کرنا چاہتی ہے، سپریم کورٹ

عدالت آئین اور قانون کی حکمرانی قائم کرنا چاہتی ہے، سپریم کورٹ
August 19, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالت آئین اور قانون کی حکمرانی قائم کرنا چاہتی ہے، پارلیمنٹ کی قانونی سازی میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی۔

سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی، عمران خان کے وکیل نے عدالت سے تحریری دلائل جمع کرانے کیلئے وقت مانگ لیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت سیاسی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے گی، صرف بنیادی حقوق کیخلاف ترامیم ہونے کے نکتے کا جائزہ لینگے، ترامیم احتساب کے عمل سے مذاق ہوئیں تو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔ اکثر ترامیم میں ملزمان کو رعایتیں بھی دی گئی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پلی بارگین کرنیوالے کے شواہد کو ہی ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے، فوجداری نظام میں گرفتاری کی ممانعت نہیں ہے، گرفتاری جرم کی نوعیت کے حساب سے ہوتی ہے۔

وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے کہاکہ ملزمان بری ہوجاتے ہیں لیکن پھر بھی ان کے داغ نہیں دھلتے، اعلیٰ عدلیہ نیب عدالت کی سزائیں برقرار نہیں رکھتی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ملک غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے، سابقہ حکومتی جماعت کے 150 ارکان اسمبلی بائیکاٹ کرکے بیٹھے ہیں، پی ٹی آئی کو کہا تھا اسمبلی جا کر اپنا کردار ادا کریں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آئین کے تحت چلنے والے تمام اداروں کو مکمل سپورٹ کرینگے، عدالت غیرمعمولی حالات میں کیس سن کر مزے نہیں لے رہی۔جسٹس منصورعلی شاہ نے کہاکہ عدالت کے باہر سیاسی موسم تبدیل ہوتا رہتا ہے، کیا سیاسی موسم کا عدالت کے اندراثر ہونا چاہیے؟ کیا عدالت میں صرف آئین اورقانون کا موسم نہیں رہنا چاہیے؟ ، بعد میں کیس کی مزید سماعت یکم ستمبرتک ملتوی کر دی گئی۔