Monday, May 20, 2024

سپریم کورٹ، آڈیو لیکس کیخلاف درخواستوں پر آج کی سماعت کا فیصلہ محفوظ

سپریم کورٹ، آڈیو لیکس کیخلاف درخواستوں پر آج کی سماعت کا فیصلہ محفوظ
May 26, 2023 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - سپریم کورٹ میں آڈیو لیکس کے خلاف درخواستوں پر آج کی سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ کرلیا گیا، مختصر اور عبوری حکم آج ہی سنایا جائے گا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تشکیل کردہ 5 رکنی بینچ جس میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس حسن اظہر رضوی شامل نے کی۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل نے لارجر بینچ کی تشکیل پر سوال اٹھا دیا، کہا موجودہ لارجر بینچ یہ کیس نہ سنے۔ چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ اعتراض کرنا آپ کا حق ہے، لیکن حکومت کیسے سپریم کورٹ کے ججز کو اپنے مقاصد کیلئے منتخب کر سکتی ہے، اٹارنی جنرل صاحب! عدلیہ کی آزادی کا معاملہ ہے، بہت ہو گیا آپ بیٹھ جائیں۔ حکومت کسی جج کو اپنی مرضی سے کمیشن میں نہیں بٹھا سکتی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اختیارات سے متعلق قانون میں حکومت نے پانچ ججز کے بینچ بنانے کا کہاہے،نئے قانون میں اپیل کیلئے پانچ سے بھی بڑا بینچ بنانے کا کہا گیا ہے، ہمارے پاس ججز کی تعداد کم ہے،حکومت نے چیف جسٹس کے اختیارات کو ریگولیٹ کرنے کی قانون سازی جلدی میں کی، اگر حکومت ہم سے مشورہ کرتی تو بہتر راستہ بتاتے۔انکوائری کمیشن میں حکومت نے خود ججز تجویز کئے۔

عابد زبیری کے وکیل شعیب شاہین نے دلائل میں کہا کہ فون ٹیپنگ غیر آئینی عمل ہے، انکوائری کمیشن کے ضابطہ کار میں کہیں نہیں لکھا کہ فون کس نے ٹیپ کئے۔ حکومت تاثر دے رہی ہے کہ فون ٹیپنگ کا عمل درست ہے۔ حکومت تسلیم کرے کہ ہماری کس ایجنسی نے فون ٹیپنگ کی۔چیف جسٹس نے کہا کہ فون ٹیپنگ پر بے نظیر بھٹو حکومت کیس موجود ہے۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ ٹیلیفون پر گفتگو کی ٹیپنگ غیر قانونی عمل ہے، آرٹیکل 14 کے تحت یہ انسانی وقار کے بھی خلاف ہے۔ اس کیس میں عدلیہ کی آزادی کا بھی سوال ہے۔ بادی النظر میں آڈیو لیکس کمیشن عدلیہ کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے، عدلیہ وفاقی حکومت کے ماتحت نہیں، چیف جسٹس نے کہاہمارے پاس صرف انصاف کی اتھارٹی ہے جس کا استعمال سرعام کیس سن کر کرتے ہیں ۔ بظاہر آڈیو لیکس کمیشن کی تشکیل کے نوٹیفکیشن میں غلطیاں ہیں۔ حکومت کو عدلیہ کے معاملات میں روایات اور کوارٹرز کا خیال رکھنا چاہیے جج کی نامزدگی چیف جسٹس کاا ختیار ہے اج کی سماعت کا مختصر اور عبوری حکم نامہ جاری کریں گے۔