Sunday, December 4, 2022

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے تاحیات نااہلی کے آرٹیکل باسٹھ ون ایف کو ظالمانہ قانون قرار دیدیا

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے تاحیات نااہلی کے آرٹیکل باسٹھ ون ایف کو ظالمانہ قانون قرار دیدیا
October 4, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطاء بندیال نے تاحیات نااہلی کے آرٹیکل باسٹھ ون ایف کو ظالمانہ قانون قرار دے دیا۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم موجودہ کیس کو محتاط ہوکر تفصیل سے سنیں گے۔

وکیل وسیم سجاد نے مؤقف اپنایا کہ فیصل واوڈا نے 2018ء میں انتخابات لڑے اور دو سال بعد ان کے غلط بیان حلفی پر نااہلی کی درخواست ہائیکورٹ میں دائر ہوئی۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن کو غلط بیان حلفی پر تحقیقات کا اختیار حاصل ہے، سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کے تاحیات نااہلی کے حکم کو کالعدم قرار دے بھی دے تو حقائق تو وہی رہیں گے۔

وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کہا کہ فیصل واوڈا نے دوہری شہریت تسلیم کی۔

سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 6 اکتوبر تک ملتوی کردی۔