Friday, May 20, 2022

چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کے تبادلے روکنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کے تبادلے روکنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر
April 9, 2022 ویب ڈیسک

لاہور (92 نیوز) - چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کے تبادلے روکنے کے لئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیر اعلی کے استعفے کے بعد صوبائی کابینہ تحلیل ہو چکی، قانونی طور پر یہ تبادلے نہیں کئے جا سکتے۔ لاہور ہائی کورٹ میں دائر کردہ درخواست میں استدعا کی گئی کہ یہ تبادلے وزیر اعلی کے الیکشن پر اثر انداز ہونے کی لئے کئے جا رہے ہیں۔ متعلقہ افسران ان غیر قانونی احکامات پر عملدرآمد روکنے کے پابند ہیں۔ اس ضمن میں سپریم کورٹ کے فیصلے پہلے ہی موجود ہیں۔ حمزہ شہباز نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو بھی خط ارسال کیا ہے جس میں قانونی پوزیشن واضح کی درخواست کی گئی ہے۔

استدعا کی گئی ہے کہ غیرقانونی احکامات جاری کرنے والوں اور ان پر عمل درآمد کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔ مسلم لیگ ن کی رہنما عظمی بخاری کا کہنا ہے کہ نگران وزیر اعلی کوئی بڑی ٹرانسفر پوسٹنگ نہیں کر سکتے۔ اس دوران اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز نے ارکان اسمبلی کو ہوٹل سے باہر جانے سے منع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حمزہ شہباز نے ارکان اسمبلی کو غیر ضروری ملاقاتوں سے پرہیز کی ہدایت کی ہے۔ اراکان اسمبلی کی میڈیا سے بات چیت پر پابندی لگا دی گئی۔

دوسری جانب مسلم لیگ ق نے ارکان اسمبلی کو ہوٹل میں بند کرنے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔ مسلم لیگ ق کے رہنما کامل علی آغا نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ حمزہ شہباز کی درخواست میں فریق بننے کی اجازت دی جائے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ امیر بھٹی 11 اپریل کو سماعت کریں گے۔ ارکان اسمبلی کو ہوٹل میں بند کیا جانا غیرقانونی اقدام ہے۔ عدالت ارکان پنجاب اسمبلی کو ہوٹلوں میں بند کرنے کااقدام کالعدم قرار دے۔