Saturday, May 21, 2022

چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 3 رکنی کمیشن نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت کی

چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 3 رکنی کمیشن نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت کی
May 10, 2022 ویب ڈیسک

 اسلام آباد (92 نیوز) -الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور نے کہا کہ ہمارا کیس فارن فنڈنگ کا نہیں بلکہ ممنوعہ فنڈنگ سے متعلق ہے۔

الیکشن کمیشن ممنوعہ فنڈنگ کیس میں پارٹی تحلیل نہیں کرسکتا۔ اکبر ایس بابر کہتے ہیں عمران خان دوسروں کو اپنی آخرت سنوارنے کی تلقین کرتے ہیں یہ بتائیں خود اپنی آخرت کب سنواریں گے۔

چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 3 رکنی کمیشن نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ  کیس کی سماعت کی۔پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سکروٹنی کمیٹی رپورٹ میں معلومات قابل تصدیق اور قابل بھروسہ نہیں ہیں۔ہم پر فارن نہیں ممنوعہ فنڈنگ کا الزام ہے۔اگر کوئی غیرملکی فنڈنگ ہو تو وفاقی حکومت کو ثابت کرنا پڑتا ہے کہ یہ فنڈنگ ملک کے خلاف استعمال ہوئی۔الیکشن کمیشن ممنوعہ فنڈنگ ضبط کرسکتا ہے پارٹی تحلیل نہیں کرسکتا، انورمنصورنے الیکشن کمیشن سے تمام سیاسی جماعتوں کے اکاؤنٹس کی چھان بین کی استدعا کی۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی سکروٹنی الیکشن کمیشن کا اہم ترین کام ہے جس کیلئے خصوصی پولیٹکل فنانس ونگ بنایا گیا ہے۔ تمام جماعتوں کے اکاونٹس کا جائزہ لیا گیاہے۔الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  اکبر ایس بابر نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس پاکستان کی سالمیت سے جڑا ہے۔عمران خان سب سے پہلے تحریک انصاف سے اپنی بادشاہت ختم کریں۔=

اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ عمران خان پاکستانی عوام اور فوج کو لڑوانا چارہے ہیں۔اگر انکا فوری الیکشن کا مطالبہ مان بھی لیا جائے تو کہیں گے  کہ مجھے اپنی مرضی کا الیکشن کمیشن اور نتائج چاہیئے ۔