Monday, May 27, 2024

عام انتخابات کی تاریخ، چیف الیکشن کمشنر کا صدرمملکت سے ملاقات سے انکار

عام انتخابات کی تاریخ، چیف الیکشن کمشنر کا صدرمملکت سے ملاقات سے انکار
August 24, 2023 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) ۔ چیف الیکشن کمشنر نے انتخابات کی تاریخ پر مشاورت کیلئے صدرمملکت کے ساتھ ملاقات سے انکار کردیا۔ صدر کو جوابی خط بھی لکھ ڈالا، کہا الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد انتخابات کی تاریخ دینا اب صدر نہیں، الیکشن کمیشن کا کام ہے، خط ملنے کے بعد صدر عارف علوی نے وزارت قانون سے رائے مانگ لی۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے عام انتخابات کی تاریخ سے متعلق صدر کے خط کا جواب دے دیا، صدر کی مشاورت کی دعوت بھی قبول کرنے سے معذرت کردی۔

چیف الیکشن کمشنر نے صدر مملکت عارف علوی کو لکھے گئے جوابی خط میں کہا کہ صدر نے وزیراعظم کی سفارش پر قومی اسمبلی آئین کے آرٹیکل 58 ون کے تحت 9 اگست کو تحلیل کی تھی، اب الیکشن ایکٹ کی سیکشن 57 میں 26 جون کو ترمیم کردی گئی ہے، جس کے تحت الیکشن کی تاریخ طے کرنا صدر نہیں، الیکشن کمیشن کا کام ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے خط میں لکھا کہ صدر 58 ٹو، 48 فائیو کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے اسمبلی تحلیل کرے تو وہ الیکشن کی تاریخ دیتا ہے، آئین کے آرٹیکل 48 فائیو کو آرٹیکل 58 ٹو کے ساتھ پڑھا جائے، جس کے مطابق وزیراعظم کی سفارش پر اسمبلی تحلیل کی جائے تو الیکشن کمیشن کو عام انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ آپ کے خط میں دی گئی شرائط موجودہ صورتحال میں لاگو نہیں ہوتیں، ملک میں اس وقت حلقہ بندیاں بھی جاری ہیں، الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ کی سیکشن 17 ٹو کے تحت حلقہ بندیاں کرانے کا فیصلہ کیا، الیکشن کمیشن نے امیدواروں، سیاستدانوں اور ووٹرز کے حقوق کو تحفظ دینے حلقہ بندی کرانے کا فیصلہ کیا۔

چیف الیکشن کمشنر نے جوابی خط میں کہا کہ الیکشن کمیشن صدر کو احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے، مناسب وقت پر قومی معاملات پر صدر سے ملاقات کر کے رہنمائی لینا اعزاز کی بات رہی، کمیشن کی رائے ہے کہ موجودہ صورتحال میں ملاقات کے محدود اثرات ہوں گے۔

دوسری طرف صدر عارف علوی نے چیف الیکشن کمیشن کا جوابی خط موصول ہونے پر وزارت قانون و انصاف سے رائے مانگ لی ہے۔