Friday, August 12, 2022

برطانوی وزیراعظم کو چیف وہپ کی تقرری مہنگی پڑ گئی

برطانوی وزیراعظم کو چیف وہپ کی تقرری مہنگی پڑ گئی
July 6, 2022 ویب ڈیسک

لندن (92 نیوز) - برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو چیف وہپ کی تقرری مہنگی پڑ گئی۔ برطانوی وزیر صحت ساجد جاوید، وزیر خزانہ رشی سونک مستعفی ہو گئے۔

تحریک عدم اعتماد سے بال بال بچنے والے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے ستارے ایک بار پھر گردش میں آ گئے۔ دارالعوام میں چیف وہپ کے تقرر پر حکمران ٹوری پارٹی میں پھوٹ پڑ گئی۔ دو اہم وزرا نے عہدے چھوڑ دیئے جس کے بعد بورس جانسن کا اقتدار ایک بار پھر خطرے میں پڑ گیا ہے۔

بورس جانسن نے دارالعوام میں کرس پنچر  کو چیف وہپ مقرر کیا جس پر وزیر  صحت ساجد جاوید اور  وزیر خزانہ  رشی سونک  نے احتجاجا استعفے دے دیئے۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ مزید وزرا کے استعفے آسکتے ہیں۔

پاکستانی نژاد    ساجد   جاوید نے  استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ بورس جانسن آپ میرا اعتماد بھی کھو چکے ہیں جبکہ لندن کے میئر صادق خان نے کہا  پارٹی از اوور برطانیہ  اب بورس جانسن سے بہتر لیڈر کا مستحق ہے۔

اپوزیشن لیڈر سر کیرا سٹارمر کا کہنا ہے کہ واضح ہے کہ جانسن حکومت اب گر رہی ہے جبکہ  لیبر  پارٹی کی ڈپٹی ہیڈ انجیلا رینر نے کابینہ کے باقی وزرا سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا۔

دوسری جانب بورس جانسن نے ساجد جاوید کی جگہ اسٹیو بارکلے کو وزیرصحت اور ندیم زہاوی کو رشی سونک کی جگہ وزیرخزانہ مقرر کردیا ہے۔

وزیر اعظم  بورس جانسن نے گزشتہ ماہ  اعتماد کا ووٹ حاصل کیا تھا۔ قانون کے تحت ان کیخلاف اب ایک سال تک تحریک عدم اعتماد نہیں لائی جا سکتی تاہم  ارکان پارلیمنٹ  متفقہ طور پر قانون میں ترمیم بھی کر سکتے ہیں۔