Sunday, October 2, 2022

بلوچستان میں سیلاب سے مزید تباہی، اموات دو سو چونتیس ہو گئیں

بلوچستان میں سیلاب سے مزید تباہی، اموات دو سو چونتیس ہو گئیں
August 25, 2022 ویب ڈیسک

کوئٹہ (92 نیوز) - بلوچستان میں طوفانی بارشیں جاری ہیں۔ سیلاب سے مزید تباہی پھیل گئی۔ صوبے میں مجموعی اموات دو سو چونتیس ہو گئیں۔

کوئٹہ کے علاقے نواں کلی کی آبادی میں سیلابی ریلا داخل ہو گیا۔ پانی میں پھنسے اہل علاقہ کو ریسکیو کرنے کا کام جاری ہے۔ ژوب، ڈی آئی خان قومی شاہراہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہو گئی جس میں سینکڑوں گاڑیاں اور مسافر پھنس گئے ۔ ڈیرہ بگٹی، کوہلو، بارکھان، لسبیلہ، حب اور اوتھل میں نشیبی علاقے زیر آب آ گئے۔ کوہلو، ہرنائی، دکی، جھل مگسی، جعفرآباد، لسبیلہ، سبی میں بھی بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آ گئی۔ کئی دیہات اور بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ لاکھوں لوگ کھلے آسمان تلے موجود ہیں۔ فصلیں، باغات، سڑکیں، پل اور ریلوے لائنیں تباہ، مواصلات کا نظام درہم برہم ہو گیا۔

ادھر سندھ میں سیلابی ریلوں سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوا۔ ہزاروں مکانات تباہ ہو گئے۔ قمبر میں چوبیس گھنٹے سے مسلسل بارش سے دیہات کا زمینی رابطہ منقطع، لوگ بے یارومددگار ہو گئے۔ قمبر شہداد کوٹ میں 9 لاکھ کے قریب افراد متاثر ہوئے۔ بھٹ شاہ، نواب شاہ، دادو، ڈہرکی جیکب آباد میں وسیع علاقہ زیر آب آ گیا۔ حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، میرپورخاص اور دیگر شہروں میں بھی سیلاب سے نظام زندگی مفلوج ہو گیا۔ سکھر میں شدید بارش کے بعد  کشتیاں چلنے لگیں۔

دوسری طرف جنوبی پنجاب بھی سیلاب اور بارشوں سے شدید متاثر ہوا۔ راجن پور کے علاقے محمد پور میں سیلاب، کشتیاں چل پڑیں۔ ڈیرہ غازی خان میں سیلابی پانی نے مزید کئی بستیوں کو لپیٹ میں لے لیا۔ راجن پور میں گندم کا سرکاری گودام بھی ڈوب گیا۔ فلڈ ریلیف کیمپ بھر گئے۔ اسکول بھی عارضی کیمپوں میں تبدیل ہو گئے۔ میانوالی، چکوال، جہلم، نارووال، سرگودھا اور شہروں میں بھی بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آ ئے۔ گجرات میں کرنٹ لگنے سے دس سال کا بچہ جاں بحق ہو گیا۔

اس کے علاوہ سوات اور مینگورہ میں کلاؤڈ برسٹ ہو گیا۔ طوفانی بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی، کئی علاقے زیرآب، گاڑیاں پانی میں  بہہ گئیں۔ مینگورہ میں تیز بارش سے پانی اسکولوں میں داخل ہو گیا۔ بچے اور اساتذہ محصور ہو گئے۔ کالام، مالم جبہ اور دیگر بالائی علاقوں میں بھی موسلادھار بارش سے کئی علاقے ڈوب گئے۔ ڈی آئی خان میں پولیس جوان نے سیلابی ریلے میں پھنس جانے والے تین بہن بھائیوں کو نکال لیا۔ لکی مروت میں ارسلا پل سیلابی ریلے میں بہہ گیا۔