Sunday, September 25, 2022

بلاول بھٹو نے وزیراعظم کو 27دسمبرتک چار مطالبات کی منظوری کی ڈیڈلائن دیدی

بلاول بھٹو نے وزیراعظم کو 27دسمبرتک چار مطالبات کی منظوری کی ڈیڈلائن دیدی
کراچی(92نیوز) پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں بری طرح ناکام ہوگئی ،ہماری وزیراعظم سے کوئی دشمنی نہیں بلکہ ان کی معاشی اور خارجہ پالیسی سے اختلاف ہے ۔میاں صاحب ملک کا سوچیں ذاتی بزنس سمجھ کر نہ چلائیں ۔قومی یکجہتی کیلئے ہمارے 4 نکات مانے جائیں ورنہ 27مارچ کو گڑھی خدابخش میں لانگ مارچ کا اعلان کرونگا ۔ تیس اکتوبر کو دنیا کی سب سے بڑی دیوالی منائی جائے گی ۔ ہم کشمیر کی آزادی چاہتے ہیں ۔ تفصیلات کےمطابق سانحہ کارساز کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے پیپلزپارٹی کی سلام شہدا ریلی کارساز کے مقام پر پہنچی جہاں پر بلاول بھٹو نے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو چار نکات  پیش کردیئے ہیں اور وارننگ دی ہے کہ اگر ان نکات کو منظور نہ کیا گیا تو 27 دسمبر کو گڑھی خدابخش سے لانگ مارچ کا اعلان کرونگا اور پھر دما دم مست قلندر ہوگا ۔ان کاکہنا تھا کہ مجھے وزیراعظم سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں بلکہ ان کی معاشی اور سیاسی پالیسیوں سے اختلاف ہے ۔ بلاول بھٹو نےچار نکات بھی عوام کے سامنے رکھ دیئے ۔نمبر ایک پاناما لیکس پر پی پی کا بل منظور کیا جائے ۔نمبر 2ملک میں فوری طور پر وزیرخارجہ لایاجائے ۔نمبر 3پارلیمانی سکیورٹی کمیٹی دوبارہ بنائے جائے چوتھے نمبر پر سی پیک پرسابق صدرزرداری کےدورمیں اے پی سی کی قراردادپرعمل کیاجائے۔ اپنے خطاب میں بلاول بھٹو نے وزیراعظم مودی کی بھی خوب خبر لی  اور کہا کہ مودی ہمیں کس منہ سے دہشتگردی کا لیکچر دیتا ہے جو خود گجرات کا قصائی تھا اب وہ کشمیر کا بھی قصائی بن گیا ہے ۔ مودی کے دور حکومت میں معصوموں اور ماؤں بہنوں پر ایسی پیلیٹ گنوں سے فائرنگ کرائی جو صرف جانوروں پر کی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مودی کو امریکہ کا ویزہ نہیں ملتا تھا اب وہ اپنے گناہ چھپانے کیلئے ہمیں دہشتگرد قرار دلوانا چاہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میری ماں اور دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم کو دہشتگردوں نے شہید کیا ،دہشتگردوں نے ملک کے کونے کونے میں کربلا بنارکھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ 27 دسمبر کو بے نظیر نے کہا تھا کہ سوات سے پاکستانی پرچم اتر چکا ہے اسی روز میری والدہ کا شہید کردیا لیکن ہم نے سوات کا کامیاب آپریشن کیا ۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ کچھ سیاستدانوں نے کہا کہ ان کے اور ہمارے نظریات ایک ہیں اور کچھ نے کہا کہ یہ امریکہ کی جنگ ہے لیکن ہم نے پورے وزیرستان میں آپریشن کا کہا کیونکہ یہاں سے پورے ملک میں آگ لگی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے نواسی کی شادی میں دعوت دیکر کر مودی سے ذاتی تعلقات بنائے حالانہ ریاست کے تعلقات ہوتے ہیں ، ہم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ مودی سے اچھے کی امید نہ رکھو ۔ بلاول نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے نجی دورے کے دوران مودی سے ملاقات کی درخواست کی اور پھر اپنی تصویریں بنوائیں ۔انہوں نے کہا کہ میں ملک کی خاطر سرحدوں پر شہید ہونے والے امتیاز اور جمعہ خان کو سلام پیش کرتاہوں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی صورتحال پر ہم نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے اور اے پی سی بلانے کی ڈٰیمانڈ کی تھی لیکن کچھ جماعتوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے بائیکاٹ کیا ۔انہوں نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ اے پی سی کی قرارداد کی مخالفت حکومت نے کی ۔پاکستان کے دشمن میاں صاحب کی کمزور پالیسیوں کا فائدہ اٹھارہےہیں ۔