Tuesday, November 29, 2022

ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور محمد صفدر باعزت بری

ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور محمد صفدر باعزت بری
September 29, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور محمد صفدر باعزت بری ہو گئے۔

جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اخترکیانی نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کےخلاف مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی اپیلوں پرسماعت کی۔ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر عدالت پیش ہوئے۔ دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرن نے دلائل دیئے کہ شریف فیملی نے خود بھی اپنے دفاع میں کوئی دستاویز پیش نہیں کی۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا وہ کیوں دستاویزات پیش کرتے۔ انکا تو کام ہی نہیں تھا۔ نیب نے ثابت کرنا تھا۔ یہ اگر روسٹرم پر کھڑے ہو کر کہیں کہ پراپرٹیز ہماری ہیں پھر بھی پراسیکیوشن نے ثابت کرنا ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا انہیں تو خاموشی سے کھڑے رہنا چاہیے تھا۔ بالکل کچھ بولنا ہی نہیں چاہیے تھا۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا پراپرٹیز کی مالیت کا تعین کرنے والا کوئی دستاویز سامنے آیا؟ آپ کے پاس کوئی دستاویز ہے جس سے پراپرٹیز یا اپارٹمنٹ کی مالیت کا پتہ چلے؟

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ شریف فیملی کا موقف ہے کہ دادا نے پوتے کو پراپرٹیز دیں۔ تفتیشی افسر نے انکے اس موقف کو غلط ثابت کرنا تھا۔ پراسیکیوشن نے یہ ثابت کرنا تھا کہ اصل ملکیت نواز شریف کی ہے یا نہیں۔ ملکیت کمپنی کی ہے، اب اس کمپنی کو لنک کریں۔ نیب نے جو کیس بنایا ہے وہ تو مریم نواز کے خلاف ہے نواز شریف کے خلاف نہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ شواہد سے بتا دیں کہ نواز شریف کا تعلق کیسے ثابت ہوتا ہے؟ باتوں سے تو نہیں ہو گا، براہ کرم کوئی شواہد دکھا دیں۔ آپ ایک ثبوت سے دکھائیں کہ نواز شریف کیا کردار ہے۔ آپ کو دکھانا ہے کہ نواز شریف کا کیس میں کردار ہے وہ ہونگے تو ہی مریم کا کردار آئے گا۔

عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کے دلائل  کے بعد فیصلہ محفوظ  کرلیا جسے کچھ دیر بعد سناتے ہوئے عدالت نے مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے انہیں بری کرنے کا حکم دے دیا۔ فیصلے کے بعد مسلم لیگ ن کے رہنمائوں اور کارکنوں نے جشن مناتے ہوئے مٹھائیاں بانٹیں۔