Sunday, September 25, 2022

ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد نے رہنما تحریک انصاف شہباز گل کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا

ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد نے رہنما تحریک انصاف شہباز گل کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا
August 17, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - شہباز گل کیس میں ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد زیبا چوہدری نے رہنما تحریک انصاف شہباز گل کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔

ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری نے شہبازگل کے جسمانی ریمانڈ کے حوالے سے محفوظ فیصلہ سنایا۔ جج زیبا چوہدری نے ریماکس میں کہا انہوں نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ پولیس کی نامکمل تفتیش کی دلیل سے متفق ہوں۔ مطمئن ہیں کہ شہباز گل سے تفتیش مکمل نہیں ہوئی۔ کیس کی تفتیش مکمل کرنے کے لیے مزید 48 گھنٹوں کے لیے شہباز گل کو پولیس کے حوالے کیا جائے۔

ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری نے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کے لیے پولیس کی اپیل پر سماعت کی۔ دوران سماعت پراسیکیوٹر نے دلائل دیئے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے لکھا کہ شہباز گل کے مطابق انہیں چینل سے کال لینڈ لائن نمبر پر کی گئی۔ شہباز گل نے کہا ان کا موبائل اس کے نہیں ڈرائیور کے پاس ہے۔ ملزم کے بیان کو حتمی کیسے مان لیا؟ قانون شہادت کے مطابق یہ درست نہیں۔ عاشورہ کی وجہ سے سگنل بند ہونے کا جواز بھی درست نہیں۔ معمولی نوعیت کے کیسز میں آٹھ دس روز کا ریمانڈ دیا جاتا ہے یہ تو مجرمانہ سازش کا کیس ہے۔ مجسٹریٹ نے تفتیشی افسر کی جسمانی ریمانڈ کے لیے استدعا محض مفروضے کی بنیاد پر مسترد کی۔ ملزم نے ادارے کے اندر بغاوت کرانے کی کوشش کی ۔

شہباز گِل کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیئے کہ ہمیں کیس کا ریکارڈ بھی فراہم نہیں کیا گیا۔ ریمانڈ میں کچھ چیزوں کو خفیہ رکھا گیا ہے۔ ریکارڈ عدالت کے سامنے ہے۔ پراسیکیوشن کے مطابق شہباز گل نے اپنی تقریر تسلیم کر لی، پھر باقی کیا رہا۔ شہباز گل کے خلاف کیس سیاسی انتقام لینے کیلئے حکومت نے بنایا ہے۔ وکیل جج سے سوال کیا کہ میڈم آپ بتائیں، کیا اس تقریر پر سزائے موت کی دفعات بنتی ہیں۔ میں تو ضمانت کی درخواست پر دلائل دینے آیا تھا یہ ریمانڈ کہاں سے آ گیا۔

جج کے استفسار پر کیس کا ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ شہباز گل کے وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ شہباز گل نے بتایا کہ میری آنکھوں پر پٹی باندھ دی جاتی ہے۔ سوال پوچھا جاتا ہے کہ بتائو عمران خان سے ملنے کون آتا ہے۔ اگر یہی تفتیش کرنی ہے تو جیل میں جا کر کر لیں۔ جسمانی ریمانڈ کیوں چاہیے۔ شہباز گل کو ضمانت بھی مل گئی تو وہ تفتیش میں تعاون کرینگے۔