Tuesday, February 7, 2023

او آئی سی کا مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کےخلاف غیر معمولی اجلاس، اسرائیلی وزیر کی اشتعال انگیز ی کی مذمت

او آئی سی کا مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کےخلاف غیر معمولی اجلاس، اسرائیلی وزیر کی اشتعال انگیز ی کی مذمت
January 11, 2023 ویب ڈیسک

جدہ (اے پی پی) - سلامی تعاون تنظیم(او آئی سی)نے مسجد اقصیٰ کے حوالے سے اسرائیلی وزیر کی اشتعال انگیز ی کی مذمت کرتے ہوئے فلسطین کاز کی مرکزی اہمیت کا اعادہ کیا ہے۔

سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق مسجد اقصٰی پر اسرائیلی حملے پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل کی زیر صدارت ہنگامی اجلاس گزشتہ روز جنرل سیکرٹریٹ جدہ میں منعقد ہوا جس میں مسجد اقصیٰ اور القدس شریف کے خلاف اسرائیلی پالیسیوں اور قدامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں اشتعال انگیز قرار دیا گیا۔

اجلاس میں کہا گیا کہ القدس شریف پوری اسلامی امہ کے دل کے قریب تر ہے۔ غیر معمولی اجلاس کے اختتام پر او آئی سی کی طرف سے 17 نکاتی اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں اسرائیلی پالیسیوں اور اقدامات کی مذمت کے علاوہ مسلم ممالک ، عالمی اداروں ، تنظیموں، مذہبی رہنمائوں اور انسانی حقوق کے اداروں کی توجہ اس اہم معاملے کی طرف دلائی گئی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی ایتامار بن یویرکا مسجد اقصیٰ کا دورہ اشتعال انگیز کارروائی ہے جو قابل مذمت ہے اور اس طرح کی کوئی بھی متصبانہ کارروائی قابل قبول نہیں۔، اسرائیلی وزیرکی شہرت انتہا پسندی کے حوالے سے ہے اس لیے ان کی اشتعال انگیزی انتہائی سنگین نوعیت کی ہے نیز یہ کہ قابض اتھارٹی کی طرف سے ہر روز اسرائیلی نوآبادیاتی کے اقدامات سامنے آرہے ہیں۔

اسرائیلی حکومتی عہدیدار، فوجی حکام، سب اشتعال انگیزی، فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں ، اس طرح کی خلاف ورزیوں کی مثال نہیں ملتی۔

اسرائیل اور اس کے عہدیداروں کی کارروائیاں مسجد اقصیٰ کی موجودہ اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کے لیے ہیں ، یہ مذہبی بنیادوں پر آگ بھڑکانے اور اسے ہوا دینے کی ایک کوشش بھی ہے۔ او آئی سی نے کہا کہ مسجد اقصیٰ میں پیش آنے والے واقعات کی اولین ذمہ داری اسرائیل کے نوآبادیاتی طرز کے قبضے پر عائد ہوتی ہے، یہ اسرائیل ہی ہے جو اپنے عہدیداروں اور حکام کو تحفظ دیتا ہے تاکہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی حیثیت کو تبدیل کر سکے لیکن خیال رہے کہ اس طرح کی تمام غیر قانونی پالیسیوں اور اقدامات کے نتائج بھی بھگتنا پڑیں گے۔

اعلامیے میں اسلامی تعاون تنظیم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی امن اور سلامتی کی ضامن کے طور پر اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اسرائیل کے خلاف ضروری کارروائی کرے۔او آئی سی نے تمام بین الاقوامی برادری سے بالعموم اور سلامتی کونسل کے مستقل ارکان سے بالخصوص مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی مذمت کے ساتھ ساتھ مذکورہ اسرائیلی وزیر پر پابندیاں بھی عائد کرے۔

او آئی سی نے مسجد اقصیٰ اور اس کے احاطے کا ذکر کرتے ہوئے عالمی برادری اور مسلم امہ کو یاد دلایا کہ یہ 144 ایکڑ پر محیط ہے، یہ ساری جگہ خالصتا ًمسلمانوں کی عبادت کے لیے ہے اور بین الاقوامی قانون بھی مسجد اقصیٰ کے اس حیثیت کو تسلیم کرتا ہے مگر اسرائیل ا سے تبدیل کرنا چاہتا ہے جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

او آئی سی نے حالیہ دنوں میں مقبوضہ بیت المقدس میں مسیحی قبرستان کی بے حرمتی اور مسیحی اراضی پر اسرائیلی قابض اتھارٹی کے کیے گئے قبضے کی مذمت کی نیز مطالبہ کیا کہ جنیوا کنونشن کے مطابق اسرائیل کو ان جرائم کا مرتکب ٹھہراتے ہوئے اس سے جواب طلبی کی جائے۔

او آئی سی نے اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف عائد کردہ حالیہ پابندیوں کی بھی مذمت کی اور تمام مذہبی رہنمائوں اوربین الاقوامی حکام سے اپیل کی کہ اسرائیل کے خطرناک عزائم کا ادارک کرتے ہوئے اس کے خلاف سخت موقف اختیار کریں۔