Monday, June 27, 2022

امپورٹڈ حکومت مداخلت سے آئی ہے، اسد عمر

امپورٹڈ حکومت مداخلت سے آئی ہے، اسد عمر
June 15, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - پی ٹی آئی رہنما اسد عمر کا کہنا ہے امپورٹڈ حکومت مداخلت سے آئی ہے۔

اسد عمر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کل ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنا بیان دیا۔ ہم نے ضروری سمجھا کہ قوم کو اپنا نقطہ نظر پہنچائے۔ میری سمجھ سے باہر یہ بات ڈی جی آئی ایس پی آر کو یہ بات کرنے کی ضرورت کیا تھی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے خود کہا فوج کو سیاست سے دور رکھیں۔ پہلے میٹنگ میں ہم موجود تھے،مراسلہ سب نے پڑھا ۔ ایک فوجی نے کہا ہمیں حقائق اور رائے کو الگ الک کرکے پڑھنا چاہئے۔ اس نے پڑھ کر کہا یہ حقائق ہے اور یہ رائے ہے۔ اس میں سیدھی سیدھی پاکستان کو دھمکی دی گئی تھی۔

اسد عمر بولے کہا گیا تھا اگر تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تو پاکستان کیلئے مشکل ہو گا۔ اگر عمران خان کو نکالا گیا تو سب معاف کیا جائے گا۔ یہ حقائق مراسلے کے اندر موجود تھی۔ بیرونی مداخلت کے الفاظ مراسلے میں استعمال ہوئے ہیں۔ کیسے سفارت کار منحرف اراکین سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ کس طرح پیسہ آرہا ہے ہمیں سب پتہ تھا۔ عمران خان نے یہ معاملہ کابینہ میں لے کر جوڈیشل کمیشن بنائی۔ اب بھی یہ مطالبہ ہے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ بتایا جائے کہ سازش اگر تھی تو کون لوگ ملوث تھے۔

پی ٹی آئی رہنما اسد عمر کا کہنا تھا لیڈرشپ کی اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ انہوں نے دفاع کرنا ہے۔ کابینہ میں بیٹھے لوگ حلف لیتے ہیں کہ دفاع کرونگا ۔ صدر پاکستان آرمڈ فورسز کے سپریم کمانڈر ہے۔ صدر نے چیف جسٹس کو خط لکھا۔ قوم کا یہ حق بنتا ہے کہ حقیقت تک جائے۔ انہوں نے کہا ہم عدالتوں کی عزت کرتے ہیں۔ جمہوریت اور آئین میں عدالتوں کی عزت کرنی پڑتی ہے۔ عمران خان چیف جسٹس کو دوبارہ خط لکھیں گے۔

 ادھر شیریں مزاری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ڈی جی آئی ایس پی آر نے کل بیان دیا یہ ان کا ویو پوائنٹ ہے۔ عمران خان کو آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں ۔ یہ سراسر قابل قبول نہیں ہے۔ یہ کہا گیا ہے عمران خان کا روس جانے کا فیصلہ صرف عمران خان کا تھا۔ عمران خان سب کو اعتماد میں لے کر روس گئے تھے۔ یہ بھی خط میں سب سے پہلے لکھا گیا۔ ہم لسٹ بنا رہے ہیں کہ امریکی سفیر کس کس سے ملیں۔

 شیریں مزاری بولیں صدر نے انوسٹیگیشن کیلئے چیف جسٹس کو خط لکھا۔ اگر انویسٹیگیشن نہیں ہوگی تو معاملہ ختم نہیں ہو گا۔ پنجاب میں اس وقت انارکی ہے۔ ایک ملک ترقی کی راستے پر جارہا تھا، معیشت ترقی کررہی تھی تو ایسا کیوں ہوا؟ صدر پاکستان نے سپریم کورٹ سے گزارش کی تو ان کو جوڈیشل کمیشن بنانا چاہئے تھا۔ دو مہینے میں جو حالات ہوئے وہ نہ ہوتے۔