Wednesday, October 5, 2022

امن، انصاف ۔ ۔ ۔

امن، انصاف ۔ ۔ ۔
August 14, 2022 ویب ڈیسک

ہے دیکھو نہ جانے کیسا

وطن کی مرے ، مٹی میں جادو

 کھِلتے گلاب بن مُرجھائے ،

دیتے رہتے ہیں خوشبو

 

خواب تھا اقبال کا

دی تعبیر جس کو قائد نے

پھر یکجا ہوئی ہر زُباں

اس نعرے کی تائید میں

جو تھا کہ لے کر رہیں گے پاکستان

اور جو ہے کہ جیتا رہے پاکستان

 

پہاڑ اور دریا ، کھیت اور فضائیں

تمام نعمتوں سے نوازا ہے رب نے

یہاں بنِ مانگے پوری ، ہو جاتی ہیں دعائیں

 

سندھی ہوں ، یا بلوچی

ہوں پنجابی یا پختون

ہیں مساوی اہم و لازم

وطن کو سہارتے یہ مضبوط ستون

 

نعمت ِآزادی ، ہے شُکر بجا لانے کا نام

ہاتھوں میں تھامے ہاتھ ،

چلو کرتے ہیں ہم کچھ ایسا کام

 کہ ہو پیشِ نظر ہمارے تعمیر و ترقی وطن کی

 امن ہو ، انصاف ہو ، مساوات بھی

اور ہو پیغامِ محبت عام

 

مِٹا ہے نہ مِٹے گا

مری ارضِ پاک کا وجود

یہ رگوں میں ہے دوڑتا

یہ دلوں میں ہے محفوظ

 

 تو رہے شاد اور سدا آباد

پاکستان۔ ۔ ۔ زندہ باد

***

(یومِ ِآزادی کے پرُ مسرت مو قع پر امن و انصاف کے عنوان پر مبنی اپنی اس نظم کو میں محترم جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد صاحب کو Dedicate کرنا چاہوں گا )

کاشف شمیم صدیقی