Thursday, May 19, 2022

الیکشن کمیشن کا منحرف ارکان قومی اسمبلی کی نااہلی کے ریفرنس پر تیس دن میں فیصلہ کرنے کا اعلان

الیکشن کمیشن کا منحرف ارکان قومی اسمبلی کی نااہلی کے ریفرنس پر تیس دن میں فیصلہ کرنے کا اعلان
April 28, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - الیکشن کمیشن نے 20 منحرف ارکان قومی اسمبلی کی نااہلی کے ریفرنس پر تیس دن میں فیصلہ کرنے کا اعلان کر دیا۔

الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کے 20 منحرف ارکان کے خلاف نا اہلی ریفرنسز پر سماعت چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت تین رکنی بینچ نے کی ۔ منحرف ارکان چوہدری عاصم نذیر، احمد حسین دیہڑ، مخدوم سمیع گیلانی، ڈاکٹر افضل ڈھانڈلہ ، عامر لیاقت حسین اور ڈاکٹر رمیش کمار ودیگر پیش ہوئے۔

نور عالم کے وکیل نے آرٹیکل 63 اے (1) کا حوالہ دے کر ریفرنس پر اعتراض اٹھایا اور کہا کہ الیکشن کمیشن مکمل نہیں ، اس لیے ریفرنس نہیں سن سکتا۔ عدالت فیصلہ دے چکی ہے کہ نااہلی ریفرنس کا فیصلہ فل بنچ کریگا۔ نور عالم نے پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دیا نہ استعفی دیا اور نہ کسی اور جماعت میں شمولیت اختیار کی۔

پی ٹی آئی وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا مکمل نہ ہونا پارلیمنٹ کی غیر ذمہ داری ہے۔ الیکشن کمیشن کو ہر حال میں نااہلی ریفرنس پر 30 دن کے اندر فیصلہ کرنا ہے۔ نورعالم  نے کہا کہ نااہلی ریفرنس آئینی معاملہ ہے، اسکو صرف فل بنچ ہی سن سکتا ہے۔ وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھانا آئین کے منافی ہے۔ الیکشن کمیشن آئین کے مطابق نا اہلی ریفرنسز کا فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

الیکشن کمیشن نے نور عالم خان نااہلی ریفرنس کے دائرہ اختیار پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیئے  ہم 30 دن میں 20 منحرف ارکان قومی اسمبلی  کے نااہلی ریفرنس پر فیصلہ کرینگے۔ منحرف رکن رمیش کمار نے بھی کمیشن کے دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھایا ۔ الیکشن کمیشن نے منحرف اراکین  سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 6 مئی تک ملتوی کر دی ۔