Friday, August 12, 2022

اچھی بات ہے آپ نیوٹرل رہنا چاہتے ہیں لیکن سیاسی و معاشی بحران کی قیمت ملک چکائے گا، عمران خان

اچھی بات ہے آپ نیوٹرل رہنا چاہتے ہیں لیکن سیاسی و معاشی بحران کی قیمت ملک چکائے گا، عمران خان
June 28, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کہتے ہیں کہ اچھی بات ہے آپ نیوٹرل رہنا چاہتے ہیں لیکن سیاسی و معاشی بحران کی قیمت ملک چکائے گا۔

منگل کے روز عوام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک حکومت عالمی سازش کے تحت آتی ہے، اس حکومت کے 60 فیصد وزراء ضمانت پر ہیں۔ جو 30 سال تک کرپشن کرتے رہے انہیں ہی مسلط کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ان سے معیشت سنبھالی نہیں جارہی، ہاتھ پھیلانے کے باوجود کوئی مدد نہیں کررہا۔ مہنگائی پر شور مچانے والوں نے مہنگائی ختم کرنے کے بجائے اپنے 1100 ارب روپے کے کرپشن کیسز میں این آر او دے دیا، ادارے بھی تباہ کردیئے۔ ہماری حکومت ختم کرنے کا مقصد صرف خود کو این آر او دینا تھا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ لوگ پوچھنا چاہتے ہیں تحریک انصاف کی حکومت جانے کے بعد کیا تبدیلی آئی ہے، اشیاء کی قیمتیں آسمانوں پر چلی گئیں، اسٹاک مارکیٹ اور روپیہ بھی نیچے گرگیا۔ ہمارے ساڑھے تین سال میں ایسی لوڈشیڈنگ کیوں نہیں ہوئی، ملک میں بجلی تو ہے پھر عوام کو بجلی کیوں نہیں مل رہی؟ انہوں نے بجلی کی قیمتیں بڑھانے کا معاہدہ کررکھا تھا لیکن ہم نے اس کے باوجود قیمتیں نہیں بڑھنے دیں۔ ہمارے ساڑھے 3 سال میں اتنی بجلی مہنگی نہیں ہوئی جتنی انہوں نے اڑھائی ماہ میں کردی۔ ابھی تو لوگوں کو بجلی کے بل بھی آنے ہیں۔

عمران خان بولے کہ ان کے دور کے لگائے امپورٹڈ فیول پر چلنے 5 پاور پلانٹ میں بجلی بھی نہیں بن رہی اوپر سے ہم پیسے بھی دے رہے ہیں۔ ساہیوال میں کول پاور پلانٹ بنایا گیا جس کے لیے کراچی سے کوئلہ لایا جاتا ہے، جس نے بھی یہ پلانٹ بنایا اسے بھی جیل میں ڈالنا چاہئے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ لوگ ہماری حکومت پر ساڑھے تین سال تنقید کرتے رہے، ہمارے دور میں انڈسٹری اور زراعت میں ریکارڈ ترقی ہورہی تھی۔ آج بیروزگاری بڑھتی جارہی ہے، آج اگر قوم باہر نکل رہی ہے تو آپ کو تشدد کرنے کے بجائے بتائیں آپ کے مسائل کیا ہیں، عوام کے دکھ درد سنیں۔ آپ سازش کرکے حکومت میں آگئے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ سب عمران خان اور اس کی حکومت کا کیا دھرا ہے، اگر یہی باتیں کرنا تھیں تو ہمیں ہی حکومت میں رہنے دینا تھا، آپ حکومت میں کیا کرنے آئے تھے؟

انہوں نے کہا کہ کورونا میں دنیا بھر میں قیمتیں بڑھیں اس کے باوجود پاکستان سب سے سستا ملک تھا، ابھی جولائی میں قیمتیں مزید بڑھیں گی۔ لوگوں کو ڈرایا جارہا ہے دہشت پھیلائی جارہی ہے، ان سے معیشت سنبھالی نہیں جارہی، ہاتھ پھیلا کر باہر پھر رہے ہیں لیکن وہ بھی مدد نہیں کررہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی مفت میں کچھ نہیں دیتا۔

سابق وزیراعظم نے کہا قوم سے ایک ہی درخواست ہے، پرامن احتجاج ہم سب کا حق ہے، جمہوریت ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتی ہے، 25 مئی کو ہمارے احتجاج کے دوران اس حکومت نے جس طرح کا تشدد کیا، آمریت میں بھی ایسا ظلم نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ قوم سے کہتا ہوں 2 جولائی کو ہفتے کی رات اسلام آباد میں تاریخی احتجاج کریں گے۔ ہم پُرامن احتجاج کریں گے، ہم ہمیشہ ہی پرامن احتجاج کرتے ہیں، اسلام آباد کے علاوہ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں احتجاج کیا جائے گا۔ حکومت سے بھی کہتا ہوں عوام کو احتجاج کا حق دیں، ان کی بات سنیں، جمہوریت ڈنڈے سے نہیں چلتی، جمہوریت اخلاقی قوت سے چلتی ہے۔