Saturday, May 21, 2022

آرٹیکل 63 کی تشریح کا معاملہ، ہارس ٹریڈنگ جمہوریت کیلیے خطرہ ہے، جسٹس اعجاز الاحسن

آرٹیکل 63 کی تشریح کا معاملہ، ہارس ٹریڈنگ جمہوریت کیلیے خطرہ ہے، جسٹس اعجاز الاحسن
May 10, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - آرٹیکل 63 کی تشریح کے معاملے پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے ہارس ٹریڈنگ جمہوریت اور نظام کیلیے خطرہ ہے۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے صدارتی ریفرنس پرسماعت کی۔ عمران خان کے وکیل بابراعوان نے موقف اپنایا مدت کا تعین نا ہو تو نااہلی تاحیات ہو گی جس پر جسٹس اعجازالاحسن بولے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ہی نااہلی تاحیات ہو گی۔ عدالت جب تک نااہلی کا ڈکلیریشن ختم نا کرے نااہلی برقراررہے گی۔

جسٹس مظہرعالم میاں خیل نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آرٹیکل 63 ون جی بھی پڑھ لیں، جسکی خلاف ورزی زیادہ سنگین جرم ہے جوعدلیہ اور فوج کی تضحیک اور نظریہ پاکستان سے متعلق ہے۔

جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا آرٹیکل 63 اے کا آرٹیکل 62 ون ایف کیساتھ تعلق کیسے بنتا ہے؟ جس پر بابر اعوان بولے آرٹیکل 63 اے بذات خود منحرف رکن کو تاحیات نااہل کرتا ہے۔ بابر اعوان کے دلائل مکمل ہونے پر مسلم لیگ ق کے وکیل اظہر صدیق نے آغاز کیا ۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا آزاد رکن اسمبلی سے پارٹی میں شامل ہونے سے پہلے حلف لیا جاتا ہے کہ پارٹی کے ہر فیصلے کا پابند ہو گا؟ وکیل اظہر صدیق بولے آزاد رکن پارٹی میں شامل ہونے سے پہلے تمام شرائط تسلیم کرتا ہے۔ ق لیگ کے وکیل کیمطابق مںحرف ارکان ووٹ ڈال ہی نہیں سکتے۔ آرٹیکل 63 اے تحریک عدم اعتماد کیخلاف حفاظتی دیوار ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے روایت بن گئی ہے پیسوں سے حکومت گرائی جاتی ہے، یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔ عدالت نے سماعت ایک روز کیلے ملتوی کر دی۔ اظہر صدیق کل بھی دلائل جاری رکھیں گے۔