Thursday, January 20, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

92 نیوز کے حالات حاضرہ کے پروگرامز بھی ناظرین میں منفرد مقام کے حامل

92 نیوز کے  حالات حاضرہ کے پروگرامز بھی ناظرین میں  منفرد مقام  کے حامل
February 6, 2019
لاہور ( 92 نیوز ) 92 نیوز کے حالات حاضرہ کے پروگرامز میں بھی ناظرین میں  منفرد مقام رکھتے ہیں ، تجزیوں ، تحقیقاتی صحافت ، مذہبی و روحانی افکار کے حسین امتزاج  کیساتھ مقابل ، نائنٹی ٹو ایٹ 8 ود سعدیہ افضال اور ہو کیا رہا ہے  کے دنیا بھر میں چرچے  ہیں ۔ دن کے آغاز پر پروگرام صبح نور  گھر گھر میں ٹی وی اسکرین کی زینت بنا ہوا ہے ۔ خبر تو خبر  92 نیوز کے پروگرامز کا بھی دور دور تک کوئی ثانی نہیں  ۔ پاکستان کا مقبول ترین پروگرام مقابل  ، ایشو بیسڈ 92 ایٹ 8 ود سعدیہ افضال ، بریکنگ ویوز ود مالک کے شائقین منتظر رہتے ہیں ۔ ان میں ہونے والے انکشافات کا چرچہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہے ، باخبر صبح  اورنائٹ ایڈیشن جیسے پروگرامز پاکستانی صحافت میں اپنا الگ مقام رکھتے ہیں۔ مذہبی پروگرام صبح نور کے تواندرون و بیرون ملک چرچے ہیں ،عوام صبح کا آغاز اپنے پسندیدہ پروگرام صبح نور دیکھ کر کرتے ہیں۔ 92نیوزکے حالات حاضرہ کے پروگرامز کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کسی بھی خبر کی سچائی جاننی ہو یا پھر کسی بھی معاملے کی اندورنی کہانی کا تجسس ہو عوام 92 نیوزکو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ شام سات بجے کا پورگرام ’’ہوکیا رہاہے ‘‘ اپنی نوعیت کا ایسا پروگرام ہے جس میں پاکستان کے سب سے قابل اعتماد صحافی عارف نظامی اپنی انفرادی خبروں کے ساتھ سکرین پر آتے ہیں۔ 5جولائی کو نواز شریف کے پہلے کیس کی خبر ایک دن پہلے ہی عارف نظامی نے دے دی تھی کہ سابق وزیراعظم کو کتنی ممکنہ سزا ہو سکتی ہے۔ رات 8بجے ’’92ایٹ 8ود سعدیہ افضال‘‘ میں پاکستان کے معاشرتی،سیاسی اور معاشی مسائل پر خبروں کے پیچھے حقائق پر گفتگو کی جاتی ہے ، 11جنوری کو زینب قتل کیس کا پروگرام پورے پاکستان میں سراہا گیا۔ 11اپریل کو بلوچستان کے وزیر اعلیٰ عبد القدوس بزنجو کے انکشافات سے بھرپور انٹرویو نے پاکستانی سیاست میں بھونچال برپا کردیا تھا۔ رائے ونڈ زمین میں ایف بی آر کی مجرمانہ غفلت کا بھانڈا بھی سعدیہ افضال نے اپنے پروگرام میں پھوڑا تھا ۔ رات دس بجے جس پروگرام کا سب کو بے تابی سے انتظار رہتا تھا وہ ہے ’’مقابل‘‘ ،دبئی میں پاکستانیوں کی جائیددادوں کی گونج سب سے پہلے ’’مقابل ‘‘ میں گونجی۔ سپریم کورٹ نے ایکشن لیا  اور’’مقابل ‘‘ میں بریک کی گئی خبر  آج پاکستان کی سب سے بڑی خبر بن چکی ہے۔ وزیراعظم کی بہن علیمہ خان کی دبئی میں جائیداد کی خبر بھی اسی پروگرام ہی بریک کی گئی تھی ۔ اسلام آباد میں گرین بیلٹ سے درختوں کی کٹائی کا معاملہ بھی مقابل کا خاصہ ہے  ، پی ایس او میں بندر بانٹ کا معاملہ ہو یا پھر ایل پی جی اسکینڈل کے انکشافات کی بات ہو ، ’’مقابل ‘‘حسب روایت سب سے آگے رہا۔ ڈی پی او پاکپتن  کی ٹرانسفر کی اندرونی کہانی ویڈیو کے ساتھ روف کلاسرا اور عامر متین نے ہی سب سے پہلے عوام کے سامنے رکھی تھی۔ ن لیگ کی حکومت میں بدنام زمانہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے حیران کردینے والے انکشافات بھی مقابل میں ہی بیان کئے گے تھے، جس میں اسحاق ڈار نے 480ارب روپے بغیر آڈٹ کے آئی پی پیز کو جاری کردئیے تھے ۔ تحریک انصاف حکومت میں ریڈیو پاکستان کی تاریخی عمارت کو فروخت کرنے کے فیصلے کی خبر بھی مقابل میں بریک ہوئی تھی جس کے بعد حکومت کو فیصلہ واپس لینا پڑاتھا۔ اسلام آباد ائیر پورٹ کی تعمیر میں گھپلوں کی داستان بھی مقابل میں ہی سب پہلے بیان کی گئی تھی ۔ اعظم سواتی کی جے آئی ٹی ہو یا پھر زلفی بخاری کی تعیناتی کا معاملہ ، پروگرام مقابل میں اس کا سب سے پہلے پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا ۔ اسلام آباد کے گرینڈ حیات ہوٹل کے اسکینڈل کا تحقیقاتی تجزیہ بھی سب سے پہلے مقابل میں ہی کیاگیا جبکہ   بینک آف پنجاب کے 50ارب روپے ہڑپ کرنے والے 48افراد کو بھی مقابل میں ہی بے نقاب کیا گیا تھا۔ پشاور میڑو میں ہونے والی بےضابطگیوں  کا سراغ بھی رؤف کلاسرا اور عامر متین نے ہی اپنے پروگرام میں لگایا تھا۔ مقابل پروگرام غیر جانبدارانہ صحافت کی اعلی مثال ہے۔ اس پروگرام میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی کرپشن کی عجب کہانیاں بتائی جاتی ہیں وہیں موجودہ حکومت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان کا عوامی اجتماع کے سامنے رؤف کلاسرا کی تعریف کرنا ان کی غیر جانبداری کا ثبوت ہے۔ وزیر اعظم عمران خان عوام کی صبح باخبر رکھنے کی لئے ’’باخبر صبح ‘‘ایسا پروگرام ہے جو صبح سویرے نمائندوں کی سب سے بڑی ٹیم کے ساتھ پاکستانی معیشت پر انکشافات سے بھرپورخبریں اپنے ناظرین کو دیتے ہیں ۔ 92نیوز کی مقبولیت مذہبی پروگرام صبح نور کے بغیر نامکمل ہے  ۔ الغرض 92نیوز خبروں،تجزیوں،تحقیقاتی صحافت،مذہبی و روحانی افکار کا ایسا حسین امتزاج ہے جس کی خوشبو پورے پاکستان اوربیرون ممالک میں پھیل چکی ہے۔