Saturday, October 16, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

نظم ’’کشمیر پاکستان، دو قالب ایک جان “ دل کے بہت قریب ہے، شاعر امن کاشف شمیم صدیقی

نظم  ’’کشمیر  پاکستان،  دو قالب ایک جان     “  دل کے بہت قریب ہے،  شاعر امن کاشف شمیم صدیقی
February 5, 2021

ربِ کائنات کا شکر ہے ہم پاکستانی آزاد فضاؤں میں سانسیں لے رہے ہیں، دعا ہے کشمیری بھی یہ دن دیکھ سکیں

 

 92 نیوز، کراچی (اسٹاف رپورٹر)  تہوار عید کا ہو یا بقرعید کا، آمد رمضان کی ہو یا پھر ماہِ ربیع النور کی، ساعتیں ہوں مقدس وپُرنور شب معراج، شب قدر اور شب برات کی،  غذائیت کی کمی کے سبب معصوم بچوں کی اموات ہوں یا پھر سامنا ہو عوام الناس کو خطرناک وبائی مرض کورونا وائرس کا،، شاعر امن کاشف شمیم صدیقی کے قلم نے پوری دیانت داری سے اپنا کردار نبھانے کی کوشش کی ہے۔ معروف شاعر کی مختلف موضوعات اور مواقعوں پر تحریر کردہ نظمیں، مضامین، کالمز اور بلاگز  منفرد اندازِبیان کی بدولت حد درجے پسندیدگی سمیٹے رکھتے ہیں۔  

COVID-19 کی بات کی جائے تو ملک کے طول و ارض میں پھیلے اس وبائی مرض نے زندگی کے رنگوں کو بے نورکردیا،  ہزاروں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا اور معاشی بدحالی، غربت میں مزید اضافے کا سبب بنی،  لیکن جہاں کورونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں اور بہت سے مثبت و موثر امور انجام پائے وہیں کاشف شمیم صدیقی کے شاعرانہ  کلام  حوصلوں،  ارادوں  اور  جذبوں  کو  تقویت  بخشنے  کا  سبب  بھی بنے۔  قوم کا حوصلہ  بلند کرنا مقصد ٹھہرا،  تو لکھا ’’ سحر  ہونے  کو  ہے“ ۔ مسیحاؤں  کو  خراجِ تحسین ’’سلام  مسیحائی  تجھے  سلام“  لکھ کر پیش کیا  ۔   بے کس،  مجبور  غریبوں کا  دکھ  محسوس کیا  تو کہا  ’’ تھام لیں اُن ہاتھوں کو،  ڈور  سانسوں کی ٹوٹنے سے پہلے“   اور  احساسات کو  مزید  ٹھیس پہنچی  تو  ’’پنچھی نامہ “  دورانِ لاک ڈاؤن  بند  دکانوں  میں  مر جانے والے  بے زُبان، معصوم  پرندوں  کے نام کردیا۔

مظلوم کشمیریوں کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی، حوصلوں ارادوں اور جذبوں کو تقویت بخشے گا 

 

5  فروری کشمیر ڈے کے موقعے پر لکھی جانے والی نظم بعنوان ’’کشمیر پاکستان،  دو قالب ایک جان“  بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ کلام میں جہاں ہر طرف پاکستان دکھائی دیتا ہے وہیں ظلم و بربریت کا شکار، وادیِ جنت نظیر کے دکھ کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کاشف شمیم صدیقی کا کہنا ہے کہ یہ نظم انکے دل کے بہت قریب ہے اور  پروردگار عالم کا بے انتہا شکر ہے کہ ہم پاکستانی آزاد فضاؤں میں سانسیں لے رہے ہیں، ہم کسی بھی قسم کے جابرانہ تسلط سے نبردآزما نہیں بلکہ خودمختار ہیں کہ اپنی زندگی کے بہتر  فیصلے اپنی مرضی کے مطابق کر سکیں، پاکستان خوش رنگ و خوشنما  پھولوں سے مہکتا ایسا گلدستہ ہے  جو پوری قوم کے احساسات اور جذ بات کی یکساں عکاسی کرتا ہے، دعا ہے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرتے مظلوم کشمیری بھی ایسے ہی  دن دیکھ سکیں،پاکستانی  یومِ کشمیر کے مو قع پر کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور اظہارِیکجہتی کرتے ہوئے یہ ثابت کردیں کہ مقبوضہ وادی کسی کا اٹوٹ انگ نہیں بلکہ مادر وطن کی شہ رگ ہے۔

تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لیے فوری اطلاع کی اجازت دیں

آپ کسی بھی وقت دائیں طرف نیچے بیل آئیکن پر صرف ایک کلک کے ذریعے آسانی سے سبسکرائب کر سکتے ہیں۔