Sunday, November 28, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

بٹن دبا کر نیا پاکستان نہیں بن سکتا، وزیراعظم عمران خان

بٹن دبا کر نیا پاکستان نہیں بن سکتا، وزیراعظم عمران خان
September 3, 2021 --- ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ، بٹن دبا کر نیا پاکستان نہیں بن سکتا، سسٹم تبدیل کرنے میں وقت لگتا ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان پراپرٹی، ہاؤسنگ اور کنسٹرکشن ایکسپو 2021 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ہم ملک کے قرضے تبھی واپس کرسکتے ہیں جب معیشت مضبوط ہوگی، سابقہ ادوار میں کسی حکومت نے ایکسپورٹ بڑھانے کا نہیں سوچا، ایکسپورٹ پر توجہ نہ دے کر ملک کے ساتھ ظلم کیا۔ سنگاپور جیسے چھوٹے چھوٹے ممالک پاکستان سے کہیں زیادہ ایکسپورٹ کررہے ہیں۔ ہم سوچ رہے ہیں پاکستان اس بار 30 ارب کی ایکسپورٹ کرے۔

اُنہوں نے کہا، اصلاحات جدوجہد کا نام ہے، مائنڈ سیٹ بدلنا ہوگا، نچلے طبقے کو اوپر اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ تعمیراتی صنعت چلے گی تو لوگوں کو فائدہ ہوگا۔ ماضی میں کمزور طبقے کیلئے کوئی پالیسی نہیں بنائی گئی۔ 

اُن کا کہنا تھا کہ، حکومت انڈسٹری کی مدد کرے گی لیکن پھر انڈسٹری کا فرض بنتا ہے کہ وہ ٹیکس دے، یہ ٹو وے سسٹم ہے، ہم آپ کو سہولیات دیں گے تاکہ آپ کی دولت بڑھے، آپ نے ٹیکس دینا ہے تاکہ ملک ترقی کرے۔ کنسٹرکشن انڈسٹری کی ترقی کے ساتھ نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔ کہا کہ کنسٹرکشن انڈسٹری امپورٹ پر توجہ کم کرے اور پاکستانی مصنوعات کا استعمال بڑھائے۔

عمران خان نے کہا، پاکستان میں کنسٹرکشن کے شعبے میں ایک بوم آرہی ہے، ملک میں گھروں کی بڑی تعداد کی ضرورت ہے۔ کہا کہ مارگیج فنانسنگ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں قرض لے کر گھربنانے کا رجحان نہیں تھا۔ ہم قانون لائے ہیں جس کے تحت بینک لوگوں کو گھر بنانے کے لیے قرض دیں گے۔

وزیراعظم بولے کہ، بھارت میں چھوٹا سا طبقہ امیر ہوگیا باقی وہاں غربت کی انتہا ہے۔ چین نے اپنے کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالا اور سپرپاور بن گیا۔ چین کی ترقی کے ماڈل کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔ کمزورطبقے کی ضروریات پوری کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

اُنہوں نے کہا، کورونا کے دوران میں نے آئی ایم ایف کے چیئرمین کو فون کیا۔  جو قرضے دیتا ہے وہ اپنی شرائط بھی دیتا ہے، میں نے چیئرمین آئی ایم ایف کو فون کرکے کنسٹرکشن انڈسٹری کے لیے سہولت لی۔

عمران خان نے مزید کہا کہ، ایف بی آر میں ہم مسلسل ریفارمز لانے کی کوشش کررہے ہیں، وزیرخزانہ شوکت ترین کو پتہ ہے انڈسٹری کو کس طرح کے چیلنجز درپیش ہوتے ہیں۔