Wednesday, October 5, 2022

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا کورونا ٹیسٹنگ سپیڈ کے سست روی پر تحفظات کا اظہار

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا کورونا ٹیسٹنگ سپیڈ کے سست روی پر تحفظات کا اظہار
 کوئٹہ (92 نیوز) ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے کورونا ٹیسٹنگ سپیڈ کے سست روی پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔ ینگ ڈاکٹرز نے ایک بار پھر بلوچستان میں مکمل لاک ڈاون اور کرفیو نافذ کرنے کا مطالبہ کر دیا ۔ ینگ ڈاکٹرز ترجمان ڈاکٹر رحیم بابر نے کہا حکومت فوری طور مکمل  لاک ڈاون کا اعلان کریں ۔ اگر لاک ڈاون فیل ہو جاتا ہے تو کرفیو نافذ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا مکمل لاک ڈاون یا کرفیو سے قبل حکومت حقائق پر مبنی اقدامات اٹھانے ہونگے ۔ لاک ڈاون اور کرفیو کی نفاذ سے ہی کورونا کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے ۔ بلوچستان میں کوروناوائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ نے ڈاکٹرز کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے ٹیسٹنگ سپیڈ کے سست روی پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔ ترجمان وائی ڈی اے نے کہا بلوچستان میں سکریننگ کا عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ پورے بلوچستان میں روزانہ کی بنیاد پر صرف 3 سو ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں۔ صوبے بھر میں کوروناوائرا کے محض 3 سو ٹیسٹ ہونا حکومت پر سوالیہ نشان ہے۔ ڈاکٹرز کے کورونا ٹیسٹ کے نتائج آنے میں 1 ہفتہ سے زیادہ کا عرصہ لگ جاتا ہے۔ نتائج میں تاخیر کوروناوائرس کے پھیلاو کا سبب بن رہا ہے۔ ترجمان وائی ڈی اے بلوچستان کا کہنا ہے صوبائی حکومت فلفور ٹیسٹنگ سپیڈ بڑھانے کے ساتھ لاک ڈاون پر عملدرآمد کرائے۔ جب تک شہر میں غیر ضروری ہجوم کو نہ روکھا جائے تب تک کورونا کا رکھنا ممکن نہیں۔ عام آدمی تو چھوڑدو ڈاکٹرز سمیت دیگر طبی عملے کے ٹیسٹ رپورٹ ہفتوں کے بعد ملتا ہے ۔ انہوں نے کہا کورونا ٹیسٹ سفارش کی بنیاد پر ہونے لگے ہے ۔ 51 ڈاکٹرز، 35 پیرامیڈیکل اسٹاف، چار نرسز کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں۔ کورونا ٹیسٹ سے متعلق حکومتی دعوئے صرف دعوئے ثابت ہو رہے ہیں۔