Tuesday, November 29, 2022

یمن کے متحارب فریقوں کے درمیان امن مذاکرات بے نتیجہ ختم، یمن کی سیاسی جماعتوں نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری سعودی عرب پر ڈال دی

یمن کے متحارب فریقوں کے درمیان امن مذاکرات بے نتیجہ ختم، یمن کی سیاسی جماعتوں نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری سعودی عرب پر ڈال دی
یمن (ویب ڈیسک) یمن کے متحارب فریقوں کے درمیان امن مذاکرات کسی سمجھوتے کے بغیر ختم ہو گئے۔ یمن کی سیاسی جماعتوں نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار سعودی عرب کو قرار دیا ہے۔ یمن کی سیاسی جماعتوں نے اقوام متحدہ کے زیراہتمام مذاکرات کی ناکامی اور جنگ بندی معاہدہ نہ ہونے پر سعودی عرب کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ ایران نواز حوثی باغیوں کے وفد کے سربراہ حمزہ الحوثی کا  کہنا تھا کہ سعودی عرب نے جان بوجھ کر امن مذاکرات کو ناکام بنایا۔ حمزہ کا مزید کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ جنیوا کانفرنس مکمل طور پر ناکام ہو گئی تاہم مسئلے کے حل کیلئے یہ پہلا قدم تھا۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے شیخ احمد اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ فریقین نے سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق اصولی طور پر جنگ بندی اور فوجوں کے انخلا پر اتفاق کیا ہے۔ یمنی بعث پارٹی کے محمد الزبیری نے کہا سعودی عرب اور یمنی حکومت کا مطالبہ تھا کہ شہروں سے حوثی باغیوں کو نکالا جائے لیکن وہ سمجھتے تھے کہ پہلے جنگ بندی ہو اور پھر سیاسی مذاکرات سے یمن کیلئے اتھارٹی تشکیل دی جائے اس کے بعد فوجیں نکالی جائیں۔ یمن میں جاری کشیدگی کے باعث اب تک تین ہزار کے قریب لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔