Friday, October 7, 2022

ہفتہ، اتوار کو بازار کھولنے کا حکم صرف عید تک کے لیے دیا ہے ، چیف جسٹس

ہفتہ، اتوار کو بازار کھولنے کا حکم صرف عید تک کے لیے دیا ہے ، چیف جسٹس
اسلام آباد (92 نیوز) چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا ہفتہ، اتوار کو بازار کھولنے کا حکم صرف عید تک کے لیے دیا ہے۔ سپریم کورٹ میں کورونا از خود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے سرکاری لیب کی ٹیسٹ رپورٹس، چین سے منگوائے جانے والے سامان کے معیار حکومتی اخراجات اور قرنطینہ سینٹرز میں سہولیات پر سوال اٹھایا اور ریمارکس دئیے کہ ہر چیز پیسہ نہیں ہوتی، پیسوں کے لیے کھیل نہ کھیلیں ۔ عمومی تاثر ہے کہ وسائل غیرمتعلقہ افراد کے ہاتھوں میں ہیں۔ سرکار کے تمام وسائل کو لوگوں پرخرچ ہونا چاہیے، صرف 2 فیصد مخصوص کلاس کے لیے سرکاری وسائل استعمال نہیں ہونے چاہئیں، این ڈی ایم اے شہروں میں کام کر رہا ہے، دیہاتوں تک تو گیا ہی نہیں، کورونا پر دیہاتوں میں آ ج بھی لوگ دم کروا رہے ہیں۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے پی پی ای کٹ کی مقامی سطح پر تیاری اور وینٹی لیٹرز کی دستیابی بارے بریفنگ دی تو چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہمارے یہاں تھرڈ کلاس چیزیں باہر سے منگوائی جاتی ہیں جیسے عسکری پارک میں سکریپ شدہ جھولا لگایا گیا تھا۔ این ڈی ایم اے سارا سامان چین سے ایک ہی پارٹی سے منگوا رہا ہے، آپ نے کروڑوں روپے لگا دیے لیکن کچھ ہوتا نظر نہیں آرہا۔ یہ بھی کہا کہ پاکستان میں ہر کمپنی ادارہ بند ہو رہا ہے۔ اسٹیل مل چل پڑے تو جہاز اور ٹینک بھی یہاں بن سکتے لیکن اسٹیل ملز کو سیاسی وجوہات پر چلنے نہیں دیا جاتا۔ ہم صومالیہ کی طرف جارہے ہیں لیکن بادشاہوں کی طرح رہ رہے ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے لاک ڈاون غیر موثر ہونے کا تذکرہ کیا تو چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ حکومت کے فیصلوں میں بڑا تضاد ہے۔ سرکاری دفاتر کھول کر نجی ادارے بند کر رہے ہیں۔ سب رجسٹرار کا آفس آپ نے کھول دیا ہے جو بڑی کرپشن کا ادارہ ہے۔ عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے پیشرفت رپورٹس طلب کرتے ہوئے سینٹری ورکرز کو حفاظتی سامان فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔ کیس کی سماعت اٹھ جون تک ملتوی کر دی۔