Wednesday, November 30, 2022

ہسپانوی لڑکی پاکستان کی خوبصورتی‘ مہمان نوازی اور ثقافت کی دیوانی ہو گئی

ہسپانوی لڑکی پاکستان کی خوبصورتی‘ مہمان نوازی اور ثقافت کی دیوانی ہو گئی

میڈرڈ (ویب ڈیسک) ہسپانوی لڑکی کلارا اریگھی نے دنیا بھر میں پاکستان کی خوبصورتی کا چرچا کردیا۔ تفصیلات کے مطابق ہسپانوی لڑکی کلارا نے اپنے دفتری کام کے سلسلے میں پاکستان کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے ملک کے طول و عرض میں پاکستانی خوبصورتی کا گہرے دل سے مشاہدہ کیا۔ سپین واپسی پر وہ پاکستانیوں کی بے لوث میزبانی اور پاکستان کے حسن کی ایسی

دیوانی ہوئیں کہ انہوں نے فیس بک پر پاکستان کی دلفریبی پر لمبا چوڑا مضمون لکھ مارا۔ ان کی پوسٹ کو اب تک 16 ہزار سے زائد مرتبہ شیئر کیا جا چکا ہے۔ کلارا اریگھی کہتی ہیں جب انہیں آگاہ کیا گیا کہ انہیں پاکستان جانا ہے تو انہوں نے وہاں نہ جانے کی وجوہات پر غور کرنا شروع کردیا۔ کئی لوگوں نے انھیں پاکستان جانے سے روکنے کیلئے مختلف طریقوں سے ڈرایا۔ انہیں بتایا گیا کہ پاکستان بنگلہ دیش ‘ ہندوستان یا افغانستان جیسا ہے۔ کلارا کا کہنا ہے وہ یہ سب باتیں سن کر ڈر گئیں۔ وہ اپنی زندگی کے دنوں کو دھول مٹی سے اٹی ہوئی سڑکوں، ٹریفک اور بدبودار گدھوں کے درمیان نہیں گزارنا چاہتی تھی جہاں شدت پسندوں رہتے ہیں اور مکمل طور پر ڈھکے ہوئے لوگ۔

خوش قسمتی سے ان کا سامنا ایک ایسے شخص سے ہوا جس نے انہیں بتایا کہ جب آپ پاکستان جائیں گی تو آپ دو مرتبہ روئیں گی۔ پہلی مرتبہ جب آپ کو وہاں بھیجا جائے گا اور دوسری مرتبہ جب آپ وہاں سے واپس آئیں گی۔ کلارا نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ واقعی سات ماہ بعد وہ دو مرتبہ روئیں۔ انہوں نے لکھا کہ پاکستان کی خوبصورتی کو لفظوں میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ یہاں کی ہر چیز اَن چھوئی ہے۔ یہاں کی قدرت، یہاں کی ثقافت، یہاں کے شہر سب کچھ۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں رنگ برنگے پہناووں میں ملبوس پاکستانی خواتین‘ ان کی زلفوں اور سڑکوں پر کرکٹ کھیلتے لڑکوں کا بھی ذکر کیا ہے جس نے انہیں بے حد متاثر کیا۔

کلارا اریگھی لکھتی ہیں انہوں نے پاکستان کے خوبصورت پہاڑوں پر چڑھائی کی۔ صاف شفاف اور خوبصورت جھیلوں میں تیراکی کی۔ سحرانگیز مساجد کا دورہ کیا اور چائے کے لاتعداد کپ پیئے۔ انہوں نے لکھا کہ انہوں نے یہاں بہت سے کھانوں کا مزہ چکھا۔ انہیں کبھی بھی فوڈ پوائزن ہوانہ ہی وہ بیمار ہوئیں۔ پاکستان کے مزیدار کھانوں کی تو بات ہی چھوڑیں وہاں کے آموں کی تو کیا ہی بات ہے۔

کلارا مزید لکھتی ہیں کہ پاکستان آ کر آپ کو یہ ہمیشہ یاد رہتا ہے کہ آپ نے یہاں کیا محسوس کیا۔ میں نے پوری دنیا میں اتنا مہمان نواز ملک نہیں دیکھا۔ یہاں کے لوگ ناقابل بیان حد تک گرمجوش اور خالص ہیں۔ مجھے کبھی بھی اس طرح سے خوش آمدید نہیں کہا گیا تھا۔ یہاں مسکرانے کی ایک عادت پائی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے پِس رہا ہے لیکن پھر بھی اتنا متحمل مزاج ہے۔ دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس نے پاکستان کو پسند نہ کیا ہو۔ انہوں نے اپنی پوسٹ کے آخر میں ”شکریہ پاکستان“ لکھ کر اپنی بے پناہ اپنائیت کا اظہار بھی کیا۔