Thursday, December 8, 2022

ہریانہ: انتہاپسند ہندو انسانیت کے جنازے نکالنے لگے، دلت خاندان کے لڑکے کو کبوتر چوری کے شبہ میں تشدد کے بعد مار ڈالا

ہریانہ: انتہاپسند ہندو انسانیت کے جنازے نکالنے لگے، دلت خاندان کے لڑکے کو کبوتر چوری کے شبہ میں تشدد کے بعد مار ڈالا
ہریانہ (ویب ڈیسک) بھارت میں انتہاپسند ہندو انسانیت کے ہر روز جنازے نکالنے لگے۔ انتہاپسندوں نے جہاں اقلیتوں اور نچلی ذات کے ہندوؤں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے وہیں پولیس بھی ظلم وستم کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں رہی۔ ہریانہ میں دلت خاندان کے ایک لڑکے کو کبوتر چوری کرنے کے شبہ میں پولیس نے تشدد کر کے مار ڈالا۔ ہریانہ کے ایک گاؤں گوہانہ میں نچلی ذات کے دلت خاندان سےتعلق رکھنے والے پندرہ سالہ  لڑکے گوندا کے خلاف اس کے پڑوسی نے کبوتر چوری کے الزام میں رپورٹ درج کرائی۔ مقامی تھانے کے دو اہلکار گوندا کو تفتیش کے لئے پولیس اسٹیشن لے گئے اور چند گھنٹوں بعد ہی اس کی لاش گھر کے پاس پڑی ہوئی ملی۔ گوندا کے والد کےمطابق پولیس نے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ اہلکار دس ہزار روپے رشوت مانگتے رہے۔ واقعے کے بعد دلت ہندوؤں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور سڑک بلاک کر دی تاہم ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔