Saturday, August 20, 2022

ہرسال یکم مئی کو مزدوروں کادن مناناصرف تقریروں تک محدودہوکررہ گیا

ہرسال یکم مئی کو مزدوروں کادن مناناصرف تقریروں تک محدودہوکررہ گیا
لاہور(ویب ڈیسک)پاکستان میں مزدور کی جو حالت ہے اسے ایک مزدور ہی جان سکتا ہےپاکستان میں مزدوروں   کی حالت زار پر کبھی کسی حکمران کو رحم نہیں آیا اعلانات تو بہت ہوئے مگر مزدور کی معاشی حالت بہتر نہ ہوئی ۔ تفصیلات کے مطابق ہاتھ پاؤں یہ بتاتے ہیں کہ مزدور ہوں میں اور ملبُوس بھی کہتا ہے کہ مجبور ہوں میں ہر سال یکم مئی کو مزدوروں کے حق میں پروگرام ہوتے ہیں اور پروگرام وہ کرتے ہیں جن کو مزدوروں کے حالات کا علم بھی نہیں ہوتا۔ سال تو سارا ہی گمنامی میں کٹ جاتا ہےبس ‘‘یکم مئی’’ کو یہ لگتا ہے کہ مشہور ہوں میں حکمران اس دن مزدوروں کے لیے کچھ اعلانات کرتے ہیں مزدوروں کی باتیں ہوتی ہیں۔ پیٹ بھر دیتا ہے حاکم مرا تقریروں سے اُس کی اِس طفل تسلی پہ تو رنجُور ہوں میں مزدور کی تنخواہ کم از کم بارہ ہزار کے با ر بار اعلانات تو حکومت کی طرف سے ہوئے مگر بیچارے مزدورکی قسمت میں آج بھی سات ہزار ماہانہ بلکہ اس سے بھی کم ہے ،اوقات کار تو متعین ہی نہیں۔ حکومت اعلان تو کر دیتی ہے مگر اپنے کیے ہوئے اعلان پر عمل نہیں کرواتی کبھی کسی حاکم نے معلوم کرنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ کم از کم اجرت کے قانون پر عمل بھی ہو رہا ہے یا نہیں،پاکستان میں بھٹہ مزدور ،چھابڑ ی فروش ،ملازمین ،کلرک ،چپڑاسی ،مالی،وغیرہ انتہائی تنگ دستی کی زندگی گزار رہے ہیں،اس دن پاکستان میں چھٹی ہوتی ہے لیکن مزدور کو اس دن دیہاڑی بھی نہیں ملتی۔ یومِ مزدور ہے، چھٹی ہے، مرا فاقہ ہے پھر بھی یہ دن کو مناؤں گا کہ مزدور ہوں میں 2