Monday, October 3, 2022

ہدایت و علم کا چراغ حضرت پیر مہر علی شاہؒ

ہدایت و علم کا چراغ حضرت پیر مہر علی شاہؒ
اسلام آباد (92نیوز) پیر سید مہر علی شاہ یکم رمضان المبارک 1859ءکر بروز سوموار گولڑہ شریف میں پیدا ہوئے۔ یہ وہ دور تھا کہ جب سلطنت مغلیہ ہمیشہ کیلئے دم توڑ چکی تھی اور دین اسلام کی ہدایت و علم کے روشن چراغ انقلاب زمانہ کے ہاتھوں یا تو گل ہوچکے تھے یا قید و بند کی صعوبتوں میں ایام حیات گزار رہے تھے یا ترک وطن کرکے برصغیر سے ہمیشہ کیلئے رخصت ہوچکے تھے۔ پیر مہر علی شاہ کی ولادت سے پہلے ہی کچھ مجذوب آپ کی ولادت کے حوالے سے پیشگوئی کر چکے تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم خانقاہ کی درس گاہ میں اردو اور فارسی زبان میں حاصل کی۔ آپ نے حصول علم کیلئے سہارن پور اور علی گڑھ کا بھی سفر کیا۔ حصول علم کے بعد جب آپ حج کیلئے حجاز تشریف لے گئے تو انہیں حجاز میں ہی رہائش اختیار کرنے کا خیال دل میں آیا لیکن حاجی امداد اللہ مکی مہاجر نے پیر مہر علی شاہ سے فرمایا کہ آپ واپس چلے جائیں کیونکہ پنجاب میں عنقریب ایک فتنہ نمودار ہو گا جس کا سدباب آپ کی ذات سے متعلق ہے۔ پیر مہر علی شاہ کی تصانیف آج بھی علماء‘ مشائخ اور عام لوگوں کیلئے مشعل راہ ہیں۔ آپ کا عرس ہر سال انتیس صفر کو منایا جاتا ہے۔ ا س موقع پر مزار پر چادر پوشی اور گل پوشی کی جاتی ہے جبکہ خصوصی محفل سماع کی محافل بھی سجائی جاتی ہیں۔