Tuesday, October 4, 2022

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس سے  پہلے ملا اختر منصور سےمتعلق خبریں افغانستان میں قیام امن کے خلاف گہری سازش

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس سے  پہلے ملا اختر منصور سےمتعلق خبریں افغانستان میں قیام امن کے خلاف گہری سازش
لاہور(ویب ڈیسک)افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان سنجیدہ اور اہم کردار ادا کر رہا ہےلیکن چند نادیدہ قوتیں اسلام آباد کے کردار کو  محدود کرنے  کے لئے اس کے خلاف سازشیں کر رہی ہیں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس سے  پہلے ملا اختر منصور سے  متعلق  متضاد خبروں کا آنا  اسی سلسلے  کی کڑی  ہے۔ تفصیلات کےمطابق پاکستان افغانستان میں امن کے لئے آٹھ دسمبر کو ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی میزبانی کر رہا ہے پاکستان افغانستان اور برطانیہ کی قیادت افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی پر بھی اتفاق کر چکی ہے لیکن کانفرنس کے انعقاد سے صرف چھے دن پہلے ملا اختر منصور کے زخمی اور ہلاک ہونے کی  خبریں  انٹرنیشنل میڈیا میں دی جا رہی ہیں۔ ان رپورٹس کے پیچھے افغان نائب صدر اول عبدالرشید دوستم کے ترجمان سلطان فیضی ہیں، عبدالرشید دوستم  وارلارڈ اور اقتدار کی کشمکش کے اہم کھلاڑی ہیں، دوستم طالبان کے ساتھ مذاکرات کے مخالف ہیں اس کے علاوہ افغان انٹیلی جنس کے کرتا دھرتا بھی طالبان کے ساتھ  مذاکرات کے حق میں نہیں جس کا ثبوت جولائی میں ہونے والے مذاکرات کا انجام ہے،تیس اور اکتیس جولائی کو افغان طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات ہونا تھےلیکن افغان انٹیلی جنس اور بعد میں افغان صدر کے دفتر نے ملا عمر کے انتقال کی خبر بریک کرکے مذاکرات کی امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا۔ اب ایک بار پھر مذاکرات بحالی کے امکانات پیدا ہوتے ہی ملا منصور کے بارے میں متضاد دعویٰ سامنے آگیا ہے۔