Sunday, November 27, 2022

گیس بم کے بعد بجلی کا جھٹکا، وفاقی کابینہ نے نرخ بڑھانے کی منظوری دےدی

گیس بم کے بعد بجلی کا جھٹکا، وفاقی کابینہ نے نرخ بڑھانے کی منظوری دےدی
اسلام آباد ( 92 نیوز ) وفاقی کابینہ نے بجلی کی قیمت بڑھانے سے متعلق اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کی توثیق کردی ۔  وزیرخزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ  70 فیصد گھریلو صارفین کے لئے بجلی کے نرخوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا، بجلی چوروں کےخلاف کل سے مہم کا  اعلان بھی کردیا، وزیراطلاعات فوادچودھری نے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیا۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کی بھاری بیٹھک میں  بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی ۔  اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری  اور  وزیر توانائی عمر ایوب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیر خزانہ اسد عمر نے حالیہ اضافہ کی ذمہ داری گزشتہ حکومت پر ڈال دی۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ مشکل ترین وقت میں بھی کمزور طبقے پر بوجھ نہيں پڑنے دیا ، 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے ایک کروڑ 76 لاکھ گھریلو صارفین پر کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ  نیپرا نے 3 روپے 82 پیسے فی یونٹ اضافے کی تجویز دی مگر  کابینہ نے بجلی کے فی یونٹ پر اوسطاً ایک روپے 27 پیسے اضافے کی منظوری دی ہے۔ تمام تخمینہ اگست میں حکومت کے آنے سے پہلے لگایا جا چکا تھا، اپوزیشن اور دیگر کی جانب سے بڑی مہنگائی کی باتیں سنی ہیں، حکومت کے آنے کے بعد پیٹرول اور ڈیزل سستا ہوا ہے۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ  یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو بند نہیں کر رہے۔ سعودی عرب کے دورہ کو کامیاب قرار دیتے ہوئے بولے بہت محنت کے بعد ثمر ملا، سعودی عرب نے قرضہ کے لیے کوئی شرط نہیں رکھی۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے بتایا سعودی عرب نے پاکستان کی درخواست منظور کرتے ہوئے عمرہ زائرین کی ویزا فیس میں واضح کمی کا اعلان کر دیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اپوزیشن کو اڑے ہاتھوں لیا۔ کہا یہ پوچھیں کہ این آر او کون کون نہیں مانگ رہا۔ قوم کو ایک خوشخبری بھی دی کہنے لگے سال 2022میں پہلا پاکستانی خلا میں بھیجا جائے گا۔ وزیر برائے پاور سیکٹر عمر ایوب خان کا کہنا تھا کنڈا سسٹم کو ختم کرنا اہم ہے، بجلی چوروں کے خلاف کل سے مہم شروع کر رہے ہیں۔سالانہ 250 سے 280 ارب روپے کم بل اور بجلی چوری کی مد میں چلے جاتے ہیں۔ عمر ایوب کا کہنا تھا کہ  بجلی چوری کیخلاف  اقدامات کا آغاز اسلام آباد اور لاہور سے کیا جارہا ہے، کے بی سی کیبلز لگائیں گے، جن پر کنڈا نہیں چلتا۔ اس کے علاوہ اے ایم آئی میٹر بھی لگائے جائیں گے  جو کہ ٹرانسفارمر پر بھی نصب ہوگا، جو بجلی چوری کی نشاندہی کرے گا۔