Tuesday, November 29, 2022

گھریلو ملازمہ کی پھندہ لگی نعش  ملنے کا واقعہ ، ورثا انصاف کیلئے دربدر

گھریلو ملازمہ کی پھندہ لگی نعش  ملنے کا واقعہ ، ورثا انصاف کیلئے دربدر
لاہور ( 92 نیوز) لاہور کے علاقے اچھرہ سے گھریلو ملازمہ  کی پھندہ لگی نعش ملنے  کے واقعے کے  8 روز گزرنے کے بعد بھی لواحقین انصاف کی تلاش میں دربدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پِیٹوں جِگر کو میں مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں لاہور کے علاقے  اچھرہ میں  آٹھ روز قبل گھریلو ملازمہ کی پھندہ لگی نعش ملنے کے واقعے کو 8 روز گزرگئے ، تحقیقات میں روایتی سست روی نے متاثرہ خاندان کو انصاف کی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگادیا ۔ متاثرہ خاندان کی جب کسی جگہ بن نہ پڑی تو فیروزپور روڈ پر احتجاج کیا لیکن پولیس نے احتجاج رکوانے کیلئے الٹا چودہ سالہ مبین کے والد کو سڑک پر گھسیٹا اور  تھانے لے گئی۔ [caption id="attachment_230547" align="alignnone" width="500"] گھریلو ملازمہ کی پھندہ لگی نعش ملنے کا واقعہ ، ورثا انصاف کیلئے دربدر[/caption] جان کی بازی ہارنے والی مبین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جسم پر تشدد ہونے کے نشانات بھی سامنے آ گئے،پولیس کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ کے آنے تک کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ بچی کے والد کا کہتے ہیں گھر کے مالک نے انہیں ٹیلی فون کے ذریعے بچی  کی خودکشی کرنے کی کوشش کی اطلاع دی جس کے فوری بعد اسکی والدہ کو مالکوں کے گھر اچھرہ بھیجا مگر جب وہ وہاں پہنچی تو اسکی نعش پھندے سے لگی ملی۔ بچی کی والدہ کا کہنا ہے کہ انکی بیٹی کے ملزم طاقتور لوگ ہیں اسی وجہ سے انہیں انصاف نہیں مل رہا حکام انصاف دلائیں۔ آٹھ روز کے دوران کیس کے تفتیشی افسر نے لواحقین کو صرف ایک بار بلایا جبکہ ملزمان نے عبوری ضمانتیں بھی کروا رکھی ہیں ۔