Sunday, December 4, 2022

گزشتہ دور حکومت میں وزارت آئی ٹی میں کروڑوں کی کرپشن کے انکشافات

گزشتہ دور حکومت میں وزارت آئی ٹی میں کروڑوں کی کرپشن کے انکشافات
اسلام آباد(روزنامہ 92 نیوز)مسلم لیگ ن کے گزشتہ دور حکومت  میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی میں کرپشن کے کئی کیسزسامنے آ گئے ، وزارت کے حکام کے اختیارات کے ناجائز استعمال،کرپشن اور مالی بے ضابطگی کی وجہ سیلولر کمپنیوں کو غیر قانونی طور پرتھری جی اور جی فورکی اجازت دیکر قومی خزانہ کو اربوں روپے کے نقصان پہنچانے کے سیکنڈل کا انکشاف ہوا ہے ۔ بینکوںمیں غیر قانونی سرمایہ کاری کے سیکنڈل کا بھی سراغ لگالیا گیا، 19-2018 کی خصوصی آڈٹ رپورٹ کی دستاویزات کے مطابق وزارت آئی ٹی اور اس کے ذیلی اداروں فریکونسی ایلوکیشن بورڈ، نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونکیشن کارپوریشن، نیشنل ٹیلی کمیونکیشن کارپوریشن اور یونیورسل سروسز فنڈ کے معاملات میں اربوں کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ پی ٹی اے نے موبائل فون کمپنیوں کو تھری جی، فور جی، ایل ٹی اے کی سروسز کی اجازت غیر قانونی طور پر دی ۔ آڈٹ رپوٹ کے مطابق پی ٹی اے نے فریکونسی ایلوکیشن بورڈ آف ڈائریکٹر کی منظوری کے بغیر کمپنیوں کو ریڈیو سپیکٹرم کی اجازت دی جس کی وجہ سے خزانہ کو فیس کی مد میں کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ۔ دوسری جانب پی ٹی اے حکام کی نااہلی کی وجہ سے 27ارب سے زائد کی رقم مقدمات کی پیروی نہ کرنے کی وجہ سے روکی ہوئی ہے ۔ خصوصی آڈٹ رپوٹ میں انکشاف ہوا کہ فریکونسی ایلوکیشن بورڈ نے موبائل فون کمپنی کو بلاوجہ اضافی فریکونسی مختص کی حالانکہ کمپنی نے 2014 میں فریکونسی ایلوکیشن بورڈ کو پہلے سے مختص سپیکٹرم میں مداخلت کے حوالے سے شکایت کی تھی مگر فریکونسی ایلوکیشن بورڈ نے ان کی شکایت کا تدارک کرنے کے بجائے 2016 میں 2سال کیلئے اضافی فریکونسی مختص کر دی جو ادارہ کے مینڈیٹ میں نہیں آتا۔ دستاویزات میں بتایا گیا کہ وزارت آئی ٹی کے ذیلی ادارہ نیشنل ٹیلی کمیونکیشن کمیشن کی انتظامیہ نے ایک بینک میں ایک ارب سے زائدکی غیر قانونی سرمایہ کاری کی  ،  این ٹی سی قانون کے تحت 300ملین روپے کے فنڈ بینک میں رکھوائے جا سکتے ہیں، این ٹی سی انتظامیہ نے سرمایہ کاری کیلئے AA ریٹڈ کے حامل بینکوں سے مئی2018میں خفیہ کوٹیشن طلب کی جن میں نجی بینک کو 6.80 فیصد اور 6.95فیصد شرح سود ڈکلیئر کرنے پر نمبر ون بینک ڈکلیئر کیا گیا مگر این ٹی سی کی آڈٹ کمیٹی نے 6.96فیصد کے شرح سود پر1ارب سے زائد کے فنڈز ایک بینک میں رکھنے کی ہدایت کی۔ اس بینک نے 21 جون کو 6.40,6.90,6.96فیصد شرح سود تجویز کیا حالانکہ بڈ 14جون کو اوپن ہوئی تھی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بڈنگ کا سارا عمل جانبداری اور ایک بینک کو فائدہ پہنچانے کیلئے کیا گیا ۔ دستیاب کے مطابق 69 پیراز میں سنجیدہ نوعیت کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں جن میں 27 کیسز میں 3ارب سے زائد کی ریکوری کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اس کے علاوہ 56 کروڑ سے زائد کے 8 پیراز میں پیپرا رولز کی خلاف ورزی کی گئی اور 12 کیسز میں دیگر مسائل کی وجہ سے 11ارب سے زائد کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔