Sunday, October 2, 2022

گرین چینل سکینڈل پر چیف جسٹس کا نوٹس، ایف بی آر کی آنکھ کھل گئی

گرین چینل سکینڈل پر چیف جسٹس کا نوٹس، ایف بی آر کی آنکھ کھل گئی
اسلام آباد (92 نیوز) گرین چینل کے ذریعے اسمگلنگ اور قومی خزانے کو سالانہ 100ارب روپے سے زائد نقصان پہنچنے کے سکینڈل  پر چیف جسٹس  نے نوٹس لیا تو ایف بی آر کی آنکھ بھی کھل گئی۔ کراچی پورٹس پر درآمدی اشیاء کی بغیر  چیکنگ کلئیرنس کیلئے قائم گرین چینل کے غلط استعمال سے متعلق ڈی جی کسٹمز انٹیلیجنس کی رپورٹ نے ایف بی آر اور کسٹمز کے سینئر حکام سمیت چیف کلیکٹر ساوتھ کی سکینڈل سے لاتعلقی غلط ثابت کر دی۔ . ممبر کسٹمز زاہد کھوکھر گرین چینل کو سیکیورٹی فراہم کرنے والی اور کسٹمز کے لیے سافٹ وئیر تیار کرنے والے کمپنی پاکستان ریوینیو آٹومیشن پرائیویٹ لمیٹڈ پرال کے ڈائریکٹر نکلے۔ 92 نیوز کو موصول ڈی جی کسٹمز انٹیلیجنس شوکت علی کی رپورٹ کے مطابق گرین چینل سہولت کا بے دریغ غلط استعمال کسٹمز حکام کی ملی بھگت سے ہو رہا ہے۔ 46 فیصد اشیاء گرین چینل کے ذریعے کلیئر کروائی جاتی ہیں۔ اسمگلرز کو یقین دہانی کروائی جاتی ہے کہ کسٹمز کے افسران سامان کی کسی پورٹ پر چینکنگ نہیں کریں گے۔ ممبر کسٹمز زاہد کھوکھر نے اپنے قریبی ساتھی عبدالرشید شیخ کو اپریزمنٹ ساوتھ کا چیف کلیکٹر تعینات کیا ہوا ہے جہاں سے گرین چینل کے ذریعے کنٹینرز کلیئرنس ہوتی ہیں۔ قانونی درآمد کنندگان اور مقامی مینوفیکچرز چیف جسٹس اور نئی چئیرمین ایف بی آر رخسانہ یاسمین سے پر امید ہیں کہ وہ  گرین چینل کے ذریعے اسمگلنگ کا خاتمہ کرتے ہوئے ذمہ دار افسران کے خلاف کاروائی یقینی بنائیں گی۔