Saturday, January 22, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

گاڑیوں کی درآمد سے مقامی صنعت کو نقصان پہنچ رہا ہے : پاکستانی آٹو انڈسٹری

گاڑیوں کی درآمد سے مقامی صنعت کو نقصان پہنچ رہا ہے : پاکستانی آٹو انڈسٹری
January 30, 2016
لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کی مقامی آٹو انڈسٹری نے گزشتہ سال کے دوران اکتالیس ہزار 257 استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کو مقامی صنعت میں سرمایہ کاری کیلئے خطرہ قرار دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق مقامی آٹو انڈسٹری نے ہزار سی سی سے کم طاقت کی ری کنڈیشنڈ درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹی 20 فیصد بڑھانے‘ منی وینز کی مدت میعاد پانچ سال سے کم کرکے تین سال کرنے اور ہائی برڈ گاڑیوں کی امپورٹ پر پچاس فیصد ڈیوٹی ری بیٹ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب استعمال شدہ گاڑیوں کے درآمد کنندگان اور ڈیلرز نے گاڑیوں کی امپورٹ پر تحفظات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ استعمال شدہ درآمدی گاڑیاں معیار کے لحاظ سے مقامی سطح پر تیار کی جانیوالی گاڑیوں سے بہتر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں بالخصوص چھوٹی گاڑیوں کی طلب بڑھ رہی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق جنوری سے دسمبر 2015ءکے دوران اکتالیس ہزار 257 استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کی گئیں جن میں 34 ہزار 765 پسنجر کاریں شامل ہیں۔ در آمدی پسنجر کاروں میں ہزار سی سی سے کم طاقت کی چھوٹی گاڑیوں کا تناسب 73 فیصد رہا اور مجموعی طور پر 25 ہزار 303 چھوٹی گاڑیاں درآمدکی گئیں۔ گزشتہ سال دو ہزار چارسو چھپن پک اپ اور وینز جبکہ چار ہزار چھتیس طاقتور اسپورٹس کاریں (ایس یو ویز) درآمد کی گئیں۔ اس دوران پینتالیس سو سے زائد ہائی برڈ کاریں بھی درآمد کی گئیں۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایسیسریز (پاپام) کے سابق چیئرمین عامر والا نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدکو پاکستانی آٹو انڈسٹری میں کی جانیوالی سرمایہ کاری کیلئے خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب حکومت آٹوانڈسٹری کو ترقی دینے اور یورپی کار مینوفیکچررز کو پاکستان لانے کی کوششوں میں مصروف ہے تو دوسری جانب استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے جس کیلئے بیگیج اور گفٹ اسکیم کا غلط استعمال کرتے ہوئے نہ صرف مقامی صنعت بلکہ قومی خزانے کو بھی نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی کار مینوفیکچررز پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں مگر وہ درآمدی گاڑیوں کے حوالے سے حکومتی پالیسی پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ہزار سی سی سے کم طاقت کی ری کنڈیشنڈ درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹی میں 20فیصد اضافہ کرتے ہوئے منی وینز کی مدت میعاد 5 سال سے کم کرکے 3سال مقرر کی جائے۔ مقامی سطح پر ہائی برڈ گاڑیوں کی تیاری کو فروغ دینے کیلئے ہائی برڈ گاڑیوں کی امپورٹ پر 50فیصد ڈیوٹی ری بیٹ ختم کی جائے۔