Monday, November 28, 2022

کیڑے مار دوا ”لنڈین“ کینسر کا باعث بنتی ہے : ڈبلیو ایچ او

کیڑے مار دوا ”لنڈین“ کینسر کا باعث بنتی ہے : ڈبلیو ایچ او
نیویارک (ویب ڈیسک) اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ ہیلتھ آگنائزیشن نے کہا ہے کہ لنڈین نامی کیڑے مار دوا کینسر کا موجب بنتی ہے۔ ادارے نے مزید کہا کہ ڈی ڈی ٹی اور ٹو فور ڈی نامی کیڑے مار ادویات بھی شاید کینسر کا سبب بن سکتی ہیں۔ انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر (آئی اے آر سی) کے ماہرین کے پینل نے کہا ہے کہ لنڈین نامی کیڑے مار دوا انسانوں میں لیمفوفا کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔ لنڈین اب بھی کئی ترقی یافتہ ممالک میں استعمال ہوتی ہے۔ کینیڈا، انڈیا، چین اور امریکہ میں لنڈین کے اجزا اب بھی جوو¿ں اور سر میں کھجلی کے علاج کے لیے تیار ہونے ادویات میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ ڈی ڈی ٹی کا استعمال 1970ءسے بند ہو چکا ہے لیکن یہ اب بھی انسانوں کو متاثر کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈی ڈی ٹی کے اثرات لمبے عرصے تک ماحول اور انسانوں میں رہ سکتے ہیں۔ ٹو فور ڈی جسے 1945 ءمیں متعارف کرایاگیا تھا اور اس وقت سے فصلوں میں جڑی بوٹیوں کے خاتمے کے علاوہ جنگلات اور شہری رہائشی علاقوں میں کیڑے مارنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہروں میں اس کیڑے مار دوا کے چھڑکاو کے مضمر اثرات خوراک، پانی اور گرد کے ذریعے انسانوں تک پہنچتے ہیں۔ آئی اے آر سی کے سربراہ ڈاکٹر کرٹ سٹرییف نے کہا ہے کہ ایسے زرعی کارکن جنہیں لنڈین کا سامنا ہے ان میں کینسر کے مرض میں لاحق ہونے کے امکانات 50 فیصد بڑھ جاتے ہیں۔ لنڈین کا استعمال اب بہت محدود ہو چکا ہے اور اب اسے جوو¿ں اور سر میں کھجلی کے علاج کےلئے تیار ہونے والی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے جس سے انسان متاثر ہوتے ہیں۔