Friday, September 30, 2022

کیپٹن کرنل شیر خان نے کارگل محاذ پر بہادری کی مثال قائم کی

کیپٹن کرنل شیر خان نے کارگل محاذ پر بہادری کی مثال قائم کی
پشاور (92 نیوز) کارگل کے محاذ پر جام شہادت نوش کرنیوالے کیپٹن کرنل شیر خان  کی آج برسی منائی جارہی ہے۔ کیپٹن کرنل شیر خان خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں پیدا ہوئے۔ کیپٹن کرنل شیر خان چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کی والدہ کا انتقال 1978 میں ہوا جب کرنل شیر خان کی عمر صرف آٹھ برس تھی۔ ابتداء میں انہوں نے ائیر مین کے طور پر پاکستان ائیر فورس میں شمولیت اختیار کر لی اور اور دو سال فضائیہ میں رہے۔ 1994 پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے تربیت مکمل کرنے کے بعد انکی پہلی تعیناتی اوکاڑہ میں ہوئی۔ جنوری 1998 میں انہوں نے خود کولائن آف کنٹرول پر تعیناتی کے لئے پیش کیا جہاں وہ ستائیسویں سندھ رجمنٹ کی طرف سے ناردرن لائن انفنٹری میں تعینات ہوئے۔ کرنل شیر خان کی منگنی 1998میں ہوئی اگلے ہی سال شادی کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں کہ آپ کو 18400 فٹ بلند کارگل کے بلند محاذ پر دفاع کا کام سونپا گیا۔ 28 جون 1999کو بھارتی افواج نے دراس کے علاقے پر حملہ کیا۔ کیپٹن کرنل شیر خان نے 41 فوجیوں کی قیادت کرتے ہوئے بھارتی فوج کو زبردست جانی نقصان سے دوچار کیا اور بھارتی فوج کو پسپا ہونا پڑا۔ اس معرکے میں کیپٹن کرنل شیر خان نے خود جام شہادت نوش کر لیا۔ حکومت پاکستان نے کیپٹن کرنل شیر خان کے عظیم کارنامے پر انہیں پاکستان کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ”نشان حیدر“ عطا کیا جبکہ اب ان کے گاؤں کوبھی کرنل شیرخان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے ۔