Tuesday, January 25, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

کیا فوج سے لڑنے والے دہشت گردوں سے عام قانون کے تحت نمٹیں ؟چیف جسٹس

کیا فوج سے لڑنے والے دہشت گردوں سے عام قانون کے تحت نمٹیں ؟چیف جسٹس
April 4, 2016
اسلام آباد (92نیوز) سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے 12 ملزمان کی اپیلوں پر سماعت ہوئی۔ سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیے کہ ہمارے فوجی جوان روزانہ شہید ہورہے ہیں۔ کیا ہم آنکھیں بند کرلیں ؟ جو دہشت گرد ہماری فوج سے لڑرہی ہے کیا ان کو عام قانون کے تحت نمٹیں ؟چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جو دہشت گرد ملک کے آئین کو ہی نہیں مانتا کیااسے حق ہے کہ وہ اسی آئین کی پناہ ڈھونڈے۔ دہشت گردوں نے اپنا قانون اپنی عدالتیں بنائیں بعد میں ہم سے انصاف مانگ لیا ،کیا یہ درست ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جنگی جرائم میں ایسی ہی سزائیں ملتی ہیں ، جرم سنا ، لائن میں کھڑا کیا اور فائر کھول دیا۔ سماعت کے دوران عاصمہ جہانگیر نے عدالت کو بتایا کہ اگر سپریم کورٹ بھی دہشت گردی کے نام پر لوگوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے لگی تو ہمارے لئے مشکل ہوگی۔ جسٹس خلجی عارف نے ریماکس دےے کہ جو فوجی عدالتیں ٹرائل کررہی ہیں انہیں بھی آئین وقانون کو ماننا پڑیگا۔ جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ جب تک فوجی عدالتوں کا ریکارڈ جانچ نہیں لیتے کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ملزم کو سزا غلط سنائی تھی۔ جانتے ہیں کہ سپریم کورٹ انصاف کی آخری امید ہے مگر سپریم کورٹ بھی اپنے طریقہ کار کے مطابق انصاف کے تقاضوں اور امیدوں پر پورااترے۔ سپریم کورٹ نے وفاق سے شفاف ٹرائل کے ضابطوں کے حوالے سے جواب طلب کرلیا۔ مقدمہ کی سماعت 6 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔