Sunday, September 25, 2022

کیا بیرون ملک سے پاکستانیوں کی لاشیں ہی واپس لانی ہیں ، سپریم کورٹ

کیا بیرون ملک سے پاکستانیوں کی لاشیں ہی واپس لانی ہیں ، سپریم کورٹ
اسلام آباد ( 92 نیوز ) سپریم کورٹ میں بھارتی جیل میں شہید پاکستانی قیدی شاکراللہ کا تذکرہ آنے پر  جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ کیا بیرون ملک سے پاکستانیوں کی لاشیں ہی واپس لانی ہیں ۔ سپریم کورٹ نے بیرون ملک پاکستانی قیدیوں کی واپسی سے متعلق رپورٹ طلب کرلی عدالت نے سیکرٹری داخلہ کی سرزنش کی اور ریمارکس دیے کہ شہریار  آفریدی کو طلب کر لیتے ہیں ۔ سپریم کورٹ میں بیرون ممالک قید پاکستانیوں کی واپسی سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی  ، عدالت نے سیکرٹری داخلہ کی دیر سے آمد پر سخت سرزنش کی  اور کہا کہ  بیرون ممالک پاکستانی قیدیوں کی جیل میں ہلاکتوں کی ذمہ دار وزارت داخلہ ہے ۔ عدالتی استفسار پر سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ قیدیوں کی واپسی کیلئے قانون تبدیل کررہے ہیں ، جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دئیے کہ قانون نہیں سیکرٹری داخلہ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ، ایسے سیکرٹری داخلہ سے پاکستانی محفوظ نہیں ہیں ۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ سیکرٹری کوئی اور کام دیکھیں وزارت داخلہ چلانا ان کے بس میں نہیں ، اگر توہین عدالت میں سزا ہوئی تو  نوکری کھو بیٹھیں گے۔ جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دئیے کہ بھارت میں شاکر اللہ 16 سال قید میں رہا اور 16 سال بعد لاش واپس آئی ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ برطانیہ میں 423 قیدی جیلوں میں ہیں ۔ عدالت نے پاکستانی قیدیوں کی واپسی سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔