Wednesday, December 7, 2022

کھانے کو تصور میں لانے کا موٹاپے سے گہرا تعلق ہے: تحقیق

کھانے کو تصور میں لانے کا موٹاپے سے گہرا تعلق ہے: تحقیق
لندن (ویب ڈیسک) ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ جن لوگوں کے دل ودماغ پرکھانوں کی خوشبو زیادہ اثرانداز ہوتی ہے وہ اپنے وزن میں کلو کے حساب سے اضافہ کر سکتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں میں کھانے کی خوشبوو¿ں کو بہتر انداز میں تصور کرنے کی صلاحیت تھی ان کا باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) زیادہ تھا یعنی ان کے قد اور وزن کی پیمائش میں عدم توازن تھا۔ محققین کا خیال ہے کہ کھانے کے تصورات سے ہماری بھوک میں اضافہ ہوتا ہے جس سے بعد ازاں ہمارے کھانے کی کھپت بڑھ جاتی ہے۔ ییل یونیورسٹی سکول آف میڈیسن کے تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ کھانے کی خواہش اور بھوک کو برقرار رکھنے میں تصورات اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پرنارمل وزن رکھنے والوں کے مقابلے میں فربہ افراد میں کھانے کی طلب زیادہ پائی جاتی ہے جس کی ایک ممکنہ وجہ ان کی کھانوں کو بہتر انداز میں تصور کرنے کی صلاحیت ہے جس سے ان کی بھوک میں اضافہ ہوتا ہے اور اسی وجہ سے اس تصور کو ان کے غیر صحت مند بی ایم آئی سے منسلک کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ سائنسی جریدے ”جرنل ایپی ٹائٹ“ میں چھپی ہے۔ محققین نے کہا کہ توقع کے عین مطابق تجزیہ سے انکشاف ہوا کہ بی ایم آئی اور کھانوں کی خوشبو کے بہتر تصور کی صلاحیت کے درمیان مثبت تعلق موجود تھا لیکن غیر غذائی اشیاءکے تصور کے ساتھ اس کا تعلق تھا۔