Friday, October 7, 2022

کٹاس راج مندر تالاب خشکی سےمتعلق از خود نوٹس کی سماعت

کٹاس راج مندر تالاب خشکی سےمتعلق از خود نوٹس کی سماعت

اسلام آباد (92 نیوز) سپریم کورٹ میں کٹاس راج مندر تالاب خشکی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت میں پنجاب حکومت کی جانب سے رپورٹ پیش کر دی گئی۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عاصمہ حامد نے عدالت کو بتایا کہ زیر زمین پانی کے استعمال سے سطح کم ہوئی۔ نئی فیکٹریاں نہیں لگائی جائیں گی۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومت ہمیشہ تاخیر سے فیصلہ کیوں کرتی ہے؟۔ ہم کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا رہے لیکن یہ افسوسناک امر ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تزک بابری میں اس علاقے کو کشمیر سے تشبیہ دی گئی ہے۔ ہجرت کرنے والے پرندے بھی اسی علاقے کا رخ کرتے ہیں۔ آپ کو دیکھنا چاہیے کہ نواب آف بہاولپور نے کیسے پانی کی سپلائی دی تھی؟۔
چیف جسٹس نے کہا کہ فیکٹریوں کو پیداوار میں اضافے کی کیسے اجازت دی گئی۔ اس کا ذمہ دار کون ہے؟۔ ایسا بیان نہیں دینا چاہتے جو ہیڈ لائن بنے۔ انہوں نے کہا کہ انڈسٹری لگانا عوام کے لیے سود مند ہے لیکن ماحول کا بھی خیال رکھنا چاہیے تھا۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا سیمنٹ فیکٹریاں لگاتے وقت جو درخت کاٹے گئے ان کی جگہ نئے درخت لگائے گئے ہیں؟۔ کاغذات میں تمام چیزیں صحیح لگتی ہیں لیکن حقائق مختلف ہوتے ہیں۔
اس پر سیکرٹری معدنیات نے بتایا کہ سیمنٹ فیکٹریوں کو پیدا وار بڑھانے پر نوٹسز جاری کیے گئے ہیں جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جب لیز کی تجدید ہوتی ہے اس وقت پیدا وار بڑھانے سے متعلق کیوں نہیں پوچھا جاتا؟۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بہت بڑا ماحولیاتی مسئلہ ہے۔ حکومت پنجاب معاملے پر کیا کر رہی ہےَ؟۔