Friday, March 1, 2024

کوریائی خطے میں تاریخی لمحہ، پرانے حریف ایک ہو گئے

کوریائی خطے میں تاریخی لمحہ، پرانے حریف ایک ہو گئے
April 27, 2018
پیانگ یانگ (92 نیوز) شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے سربراہ تاریخی مذاکرات کیلئے سرحدی قصبے پانمنجوم پہنچ گئے۔ جنگ بندی معاہدے کو امن معاہدے میں تبدیل کرنے پر بات ہو گی۔ شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے سربراہان 11 سال بعد پہلی بار ملاقات کر رہے ہیں۔ یہ ملاقات عالمی طاقتوں، خاص طور پر امریکا اور چین کی طرف سے دونوں حریفوں پر دباؤ اور مصالحت کیلئے آگے بڑھنے کےمطالبات پر ہو رہی ہے۔ شمالی کورین رہنما کم جانگ ان سخت سکیورٹی میں سرحدی قصبے پانمنجوم پہنچے جہاں جنوبی کورین صدر مون جے نے انکا استقبال کیا۔ کم جانگ اُن کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا جبکہ انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔ شمالی کورین سربراہ کی ہمشیرہ بھی انکے ہمراہ ہیں۔ کم جانگ ان نے اس موقع پر مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کئے اور کہا کہ آج سے نئی تاریخ شروع ہو رہی ہے۔ اہم معاملات پر مخلصانہ بات چیت کیلئے تیار ہیں۔ امید ہے ملاقات سے اچھے نتائج برآمد ہونگے۔ کم جانگ اُن نے کہا کہ ماضی میں اہم معاہدے پر عمل در آمد نہیں ہو سکا، اب یہ غلطیاں نہیں دہرانا چاہتے۔ جنوبی کوریا کے صدر مون جے اس موقع پر کہا کہ پوری دنیا کی نظریں ان پر ہیں۔ مذاکرات کے نتیجے میں جراتمندانہ سمجھوتا طے پا جائے گا۔ اس تاریخی موقع پر امریکی صدارتی محل وائٹ ہاؤس نے بھی خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکا امید کرتا ہے کہ ملاقات مستقبل میں امن کیلئے مددگار ثابت ہو گی۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے  مائیک پومپیو کی شمالی کوریا کے سربراہ کم جانگ اُن سے ملاقات کی تصاویر جاری کر دیں۔ پومپیو نے رواں ماہ ایسٹر پر پیانگ یانگ کا  خفیہ دورہ کیا تھا جب وہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر تھے۔ اس ملاقات میں کم جانگ اُن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی  ملاقات کے معاملات پر بات کی گئی تھی۔