Wednesday, September 28, 2022

کورونا کیسز میں مسلسل اضافہ ، ڈاکٹرز کا لاک ڈاؤن سخت کرنیکا مطالبہ

کورونا کیسز میں مسلسل اضافہ ، ڈاکٹرز کا لاک ڈاؤن سخت کرنیکا مطالبہ

اسلام آباد ( 92 نیوز ) کورونا کیسز میں مسلسل اضافہ ہونے پر  ڈاکٹرز نے لاک ڈاؤن سخت کرنے کا مطالبہ کردیا، سیکرٹری پی ایم اے ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ کورونا سے بچاؤ حکومتی ایس اوپیز پرعمل کرنے سے ہی ممکن ہے، ڈاکٹرافتخار برنی بولے مساجد سے وائرس  منتقلی کے امکانات زیادہ ہیں ، نماز تراویح  گھر پر ادا کرنے کی ضرورت ہے ، صدر وائے ڈی اے خیبرپختونخوا ڈاکٹر رضوان کنڈی کہتے ہیں معمرافراد کو احتیاط کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔

ڈاکٹرافتخار برنی نے کہا کہ نماز تراویح کو گھر پر ادا کرنا سب کیلئے بہتر ہے،نماز تراویح کو بھی گھر پر ادا کرنے کی ضرورت ہے ، نماز جمعہ کا بھی محدود انتظام کیا جائے،مساجد میں اجتماع اس میں خیال رکھنا بہت مشکل کام ہے،مساجد سے وائرس کی منتقلی کے امکانات زیادہ ہیں۔

ڈاکٹر افتخار برنی نے کہا کہ  ایک طبقے کے دباؤ کی وجہ سے حکومت لاک ڈاؤن میں نرمی کرنا چاہتی ہے ،  اسمارٹ لاک ڈاؤن سے گزارا نہیں ہوگا، عوام اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پابندی نہیں کریں گے، سخت لاک ڈاؤن 2  سے3 ہفتوں کیلئے ہونا چاہیے اور آمدورفت پر پابندی ہونی چاہیے، سخت لاک ڈاؤن کے دوران راشن اور غذائی اجناس کا  انتظام کرنا چاہیے۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کا کوئی حتمی علاج نہیں اور اسپتالوں کی گنجائش ختم ہورہی ہے، طبی عملے میں بھی بڑی تعداد میں کورونا کی تشخیص ہورہی ہے ، حفاظتی سامان کا پوری طرح انتظام نہیں ہورہا جس کی وجہ سے ڈاکٹرز وبا کا شکار ہورہے ہیں،ایک ہفتے میں کورونا کیسز کی تعداد دوگنا ہوچکی ہے جو چونکا دینے والی صورتحال ہے،اس غلط فہمی کا دور کرنا چاہیے کہ وبا کی پاکستان میں شدت کم ہے۔