Wednesday, December 7, 2022

کورونا وائرس سے گھر بیٹھے تھیلیسیمیا اور ہیموفیلیا کے مریضوں کی جان پر بھی بن آئی

کورونا وائرس سے گھر بیٹھے تھیلیسیمیا اور ہیموفیلیا کے مریضوں کی جان پر بھی بن آئی
 لاہور (92 نیوز) کورونا وائرس سے جہاں معمولات زندگی متاثر ہیں وہیں گھر بیٹھے تھیلیسیمیا اور ہیموفیلیا کے مریضوں کی جان پر بھی بن آئی۔ خون عطیہ کرنے والوں کی تعداد میں کمی آ گئی۔ موذی وبا کورونا وائرس نے دنیا بھر میں نظام زندگی معطل کر دیا۔ دیگر افراد کی طرح تھیلیسیمیا اور ہیموفیلیا کے مرض میں مبتلا بچے بھی شدید متاثر ہیں۔ این جی اوز کیلئے خون جمع کرنا ایک امتحان بن گیا۔ کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کی وجہ سے تعلیمی ادارے اور فیکٹریاں بند ہوئیں تو خون عطیہ کرنے والے افراد بھی گھروں تک محدود ہو گئے۔ خون کی بیماریوں میں مبتلا بچے بلڈ ڈونرز سے فریاد کرنے لگے۔ چیف ایڈمنسٹریٹر تھلیسیمیا آف پاکستان عبدالمنعم خان نے کہا کہ ہمارے پاس ڈھائی ہزار رجسٹرڈ مریض ہیں، روزانہ تقریباً 50 سے 60 خون کی بوتلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ چیئرپرسن فیڈریشن آف تھیلیسمیا ڈاکٹر جویریہ نے 92 نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بلڈ ڈونرز سے اپیل کی کہ اس مشکل گھڑی میں مریض بچوں کی خاطرنکلیں اور خون عطیہ کریں۔ تھیلیسیمیا اور ہیموفیلیا کے مریضوں کو خوراک کی طرح خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ متاثرہ بچے زندگی کی سانسیں باقی رکھنے کیلئے بلڈ ڈونرز سے خون عطیہ کرنے کی اپیل کررہے ہیں۔