Monday, December 5, 2022

کورونا وائرس سے تھیلیسیمیا کے مریضوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئیں

کورونا وائرس سے  تھیلیسیمیا کے مریضوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئیں

لاہور ( 92 نیوز) کورونا وائرس کی وبا نے جہاں پر پوری دنیا کو متاثر کیا ہے وہیں خاص طور پر تھیلسیمیا کے مریض معصوم بچوں کی زندگیاں بھی داؤ پر لگ گئیں،بچے خون کے عطیات میں شدید کمی کے باعث ایک مرتبہ پھر زندگی اور موت کی کشمکش کا شکار ہیں۔

کورونا وائرس کی وباء اور اس کے خوف نے پوری دنیا کو جہاں  اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے وہی لاک ڈاؤن اور تمام نظام زندگی مفلوج ہو جانے کی وجہ سے تھیلسیمیا کے مریض بچے اپنی زندگیاں بچانے کے لئے خون کے عطیات دینے والے مسیحاوں کے منتظر ہیں،کورونا کی وبا اور یونیورسٹی کالجز بند ہونے کی وجہ سے خون کے عطیات میں 80فیصد کمی آئی ہے جس کے باعث معصوم بچے اور ان کے والدین خون کے عطیات کی اپیل کر رہے ہیں۔

کورونا کے باعث جہاں مشکلات کا سامنا ہے وہی درد دل رکھنے والے بعض افراد خدمت انسانی ہی اصل عبادت ہے کے نعرے کو سچ بھی ثابت کر رہے ہیں۔

تھیلسیمیا کے مریض کو کم از کم 15دن بعد خون کی ایک بوتل کی ضرورت پڑتی ہے،ہمارے خون کا  عطیہ جہاں ہمیں دلی سکون اور راحت دے گا وہی کئی معصوموں کے چہروں پر خوشیوں کے پل واپس لاسکتا ہے۔